مرنے کی آرزو میں مجھے پیچ و تاب ہے
Vafa Barahi (1917–1993)مرنے کی آرزو میں مجھے پیچ و تاب ہے
اب زندگی بھی باعث صد اضطراب ہے
موج خلش نے لے کے یہ آغوش میں کہا
دریائے آرزو بھی برنگ سراب ہے
صحرا میں خاک اڑانے کی حاجت نہیں مجھے
مجھ سے مرے جنوں کو بھی اب اجتناب ہے
پوچھو نہ حال لذت آزار اے وفاؔ
نقش سکوں بھی مائل صد انقلاب ہے