پڑی جب کسی کی نگاہ محبت
Vafa Barahi (1917–1993)پڑی جب کسی کی نگاہ محبت
ملی اہل الفت کو راہ محبت
ستم ہے قیامت ہے آہ محبت
مری سمت ہوگی نگاہ محبت
ہزاروں حسیں جمع آ کر ہوئے ہیں
یہ محشر ہے یا جلوہ گاہ محبت
وہ اہل تمنا کو پہچان لیں گے
کہ چھپتی نہیں ہے نگاہ محبت
وفاؔ اس سے واقف نہیں وہ ستم گر
غضب ڈھائے گی میری آہ محبت