Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیرزندگی دشوار ہے تیرے بغیرShakeel Badayuni (1916–1970)
  2. مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیںجسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  3. مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکاراترا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیاراShakeel Badayuni (1916–1970)
  4. میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دےمیں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دےShakeel Badayuni (1916–1970)
  5. نظر نواز نظاروں میں جی نہیں لگتاوہ کیا گئے کہ بہاروں میں جی نہیں لگتاShakeel Badayuni (1916–1970)
  6. نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیادل حریف کو بیدار کر کے چھوڑ دیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  7. نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہےانہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  8. نہ سوچا تھا یہ دل لگانے سے پہلےکہ ٹوٹے گا دل مسکرانے سے پہلےShakeel Badayuni (1916–1970)
  9. نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتےاگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتےShakeel Badayuni (1916–1970)
  10. وجہ قدر و قیمت دل حسن کی تنویر ہےورنہ اک ٹوٹے ہوئے شیشے کی کیا توقیر ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  11. وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیںبہت مغرور ہوتے جا رہے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  12. وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گےمرا افسانہ دہرایا کریں گےShakeel Badayuni (1916–1970)
  13. ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہار مسرت کر بیٹھےمشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  14. ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھےزمیں کی خاک ہو کر آسماں سے دل لگا بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  15. یہ دنیا ہے یہاں دل کو لگانا کس کو آتا ہےہزاروں پیار کرتے ہیں نبھانا کس کو آتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  16. آج کیا ہے جو ملا شوخ نگاہوں کو قرار؟کیا ہوا حسن کی معصوم حیاؤں کا وقارShakeel Badayuni (1916–1970)
  17. اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محلساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  18. ایک شب ہلکی سی جنبش مجھے محسوس ہوئیمیں یہ سمجھا مرے شانوں کو ہلاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
  19. پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کرگلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کرShakeel Badayuni (1916–1970)
  20. راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جاپیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جاShakeel Badayuni (1916–1970)
  21. شفق نزع میں لے رہی تھی سنبھالااندھیرے کا غم کھا رہا تھا اجالاShakeel Badayuni (1916–1970)
  22. مرے ساقیا مجھے بھول جامرے دل ربا مجھے بھول جاShakeel Badayuni (1916–1970)
  23. ہم نشیں رات کی مغموم خموشی میں مجھےدور کچھ دھیمی سی نغموں کی صدا آتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  24. ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یادوقت کتنا قیمتی ہے آج کلShakeel Badayuni (1916–1970)
  25. بزدلی ہوگی چراغوں کو دکھانا آنکھیںابر چھٹ جائے تو سورج سے ملانا آنکھیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  26. بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔآپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیےShakeel Badayuni (1916–1970)
  27. بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگرپی کے انسان ہوا جاتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  28. پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کیدوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کیShakeel Badayuni (1916–1970)
  29. ترک مے ہی سمجھ اسے ناصحاتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتیShakeel Badayuni (1916–1970)
  30. تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دوآ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہShakeel Badayuni (1916–1970)
  31. جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائیدل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائیShakeel Badayuni (1916–1970)
  32. کس سے جا کر مانگیے درد محبت کی دواچارہ گر اب خود ہی بے چارے نظر آنے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
  33. کل رات زندگی سے ملاقات ہو گئیلب تھرتھرا رہے تھے مگر بات ہو گئیShakeel Badayuni (1916–1970)
  34. کیا اثر تھا جذبۂ خاموش میںخود وہ کھچ کر آ گئے آغوش میںShakeel Badayuni (1916–1970)
  35. نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہےنئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  36. ہمیں جن کی دید کی آس تھی وہ ملے تو راہ میں یوں ملےمیں نظر اٹھا کے تڑپ گیا وہ نظر اٹھا کے گزر گئےShakeel Badayuni (1916–1970)
  37. بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگہمیں تھا زعم بہار آفریدہ ہیں ہم لوگRaaz Muradabadi (1916–1982)
  38. چمن میں آتش گل بھی نہیں دھواں بھی نہیںبہار تو یہ نہیں ہے مگر خزاں بھی نہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
  39. غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہےاب وہ زلف برہم ہے اب وہ چشم گریاں ہےRaaz Muradabadi (1916–1982)
  40. کسی کے وعدۂ صبر آزما کی خیر کہ ہماب اعتبار کی حد سے گزرتے جاتے ہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
  41. ہر اک شکست تمنا پہ مسکراتے ہیںوہ کیا کریں جو مسلسل فریب کھاتے ہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
  42. پھر تیری یاد دلاتے ہیں مجھےلوگ دانستہ ستاتے ہیں مجھےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
  43. چاند کا نور ستاروں کی ضیا بن جاؤںسوچتا ہوں کہ تری بزم میں کیا بن جاؤںYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
  44. سب کچھ مری قسمت کا تیرے در کے قریں ہےجینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
  45. سر تیرے آستاں پہ جھکائے ہوئے ہے ہمیعنی فراز عرش پے چھائے ہوئے ہے ہمYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
  46. فریاد نہیں شکر ستم کرتے رہیں گےہم خود انہیں مجبور کرم کرتے رہیں گےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
  47. اٹھو اس شان سے کہ وقت کے دھارے بدل ڈالونگاہیں تھک چکیں جن سے وہ نظارے بدل ڈالوIbraheem Khaleel (1916–1992)
  48. ترے خیال کی جنت میں کھو گیا ہوں میںاب اپنے آپ کو رہ رہ کے ڈھونڈھتا ہوں میںIbraheem Khaleel (1916–1992)
  49. رخ پہ اپنے نقاب رہنے دےدرمیاں اک حجاب رہنے دےIbraheem Khaleel (1916–1992)
  50. ہجر کی شب جو طبیعت کبھی گھبرائی ہےتو نہ آیا تو تیری یاد بہت آئی ہےIbraheem Khaleel (1916–1992)