Poetry
Poet
Meter
- لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیرزندگی دشوار ہے تیرے بغیرShakeel Badayuni (1916–1970)
- مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیںجسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکاراترا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیاراShakeel Badayuni (1916–1970)
- میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دےمیں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دےShakeel Badayuni (1916–1970)
- نظر نواز نظاروں میں جی نہیں لگتاوہ کیا گئے کہ بہاروں میں جی نہیں لگتاShakeel Badayuni (1916–1970)
- نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیادل حریف کو بیدار کر کے چھوڑ دیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہےانہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- نہ سوچا تھا یہ دل لگانے سے پہلےکہ ٹوٹے گا دل مسکرانے سے پہلےShakeel Badayuni (1916–1970)
- نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتےاگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتےShakeel Badayuni (1916–1970)
- وجہ قدر و قیمت دل حسن کی تنویر ہےورنہ اک ٹوٹے ہوئے شیشے کی کیا توقیر ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیںبہت مغرور ہوتے جا رہے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گےمرا افسانہ دہرایا کریں گےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہار مسرت کر بیٹھےمشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھےزمیں کی خاک ہو کر آسماں سے دل لگا بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- یہ دنیا ہے یہاں دل کو لگانا کس کو آتا ہےہزاروں پیار کرتے ہیں نبھانا کس کو آتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- آج کیا ہے جو ملا شوخ نگاہوں کو قرار؟کیا ہوا حسن کی معصوم حیاؤں کا وقارShakeel Badayuni (1916–1970)
- اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محلساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ایک شب ہلکی سی جنبش مجھے محسوس ہوئیمیں یہ سمجھا مرے شانوں کو ہلاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
- پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کرگلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کرShakeel Badayuni (1916–1970)
- راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جاپیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جاShakeel Badayuni (1916–1970)
- شفق نزع میں لے رہی تھی سنبھالااندھیرے کا غم کھا رہا تھا اجالاShakeel Badayuni (1916–1970)
- مرے ساقیا مجھے بھول جامرے دل ربا مجھے بھول جاShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہم نشیں رات کی مغموم خموشی میں مجھےدور کچھ دھیمی سی نغموں کی صدا آتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یادوقت کتنا قیمتی ہے آج کلShakeel Badayuni (1916–1970)
- بزدلی ہوگی چراغوں کو دکھانا آنکھیںابر چھٹ جائے تو سورج سے ملانا آنکھیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔآپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیےShakeel Badayuni (1916–1970)
- بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگرپی کے انسان ہوا جاتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کیدوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کیShakeel Badayuni (1916–1970)
- ترک مے ہی سمجھ اسے ناصحاتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتیShakeel Badayuni (1916–1970)
- تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دوآ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہShakeel Badayuni (1916–1970)
- جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائیدل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائیShakeel Badayuni (1916–1970)
- کس سے جا کر مانگیے درد محبت کی دواچارہ گر اب خود ہی بے چارے نظر آنے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
- کل رات زندگی سے ملاقات ہو گئیلب تھرتھرا رہے تھے مگر بات ہو گئیShakeel Badayuni (1916–1970)
- کیا اثر تھا جذبۂ خاموش میںخود وہ کھچ کر آ گئے آغوش میںShakeel Badayuni (1916–1970)
- نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہےنئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہمیں جن کی دید کی آس تھی وہ ملے تو راہ میں یوں ملےمیں نظر اٹھا کے تڑپ گیا وہ نظر اٹھا کے گزر گئےShakeel Badayuni (1916–1970)
- بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگہمیں تھا زعم بہار آفریدہ ہیں ہم لوگRaaz Muradabadi (1916–1982)
- چمن میں آتش گل بھی نہیں دھواں بھی نہیںبہار تو یہ نہیں ہے مگر خزاں بھی نہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
- غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہےاب وہ زلف برہم ہے اب وہ چشم گریاں ہےRaaz Muradabadi (1916–1982)
- کسی کے وعدۂ صبر آزما کی خیر کہ ہماب اعتبار کی حد سے گزرتے جاتے ہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
- ہر اک شکست تمنا پہ مسکراتے ہیںوہ کیا کریں جو مسلسل فریب کھاتے ہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
- پھر تیری یاد دلاتے ہیں مجھےلوگ دانستہ ستاتے ہیں مجھےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- چاند کا نور ستاروں کی ضیا بن جاؤںسوچتا ہوں کہ تری بزم میں کیا بن جاؤںYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- سب کچھ مری قسمت کا تیرے در کے قریں ہےجینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- سر تیرے آستاں پہ جھکائے ہوئے ہے ہمیعنی فراز عرش پے چھائے ہوئے ہے ہمYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- فریاد نہیں شکر ستم کرتے رہیں گےہم خود انہیں مجبور کرم کرتے رہیں گےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- اٹھو اس شان سے کہ وقت کے دھارے بدل ڈالونگاہیں تھک چکیں جن سے وہ نظارے بدل ڈالوIbraheem Khaleel (1916–1992)
- ترے خیال کی جنت میں کھو گیا ہوں میںاب اپنے آپ کو رہ رہ کے ڈھونڈھتا ہوں میںIbraheem Khaleel (1916–1992)
- رخ پہ اپنے نقاب رہنے دےدرمیاں اک حجاب رہنے دےIbraheem Khaleel (1916–1992)
- ہجر کی شب جو طبیعت کبھی گھبرائی ہےتو نہ آیا تو تیری یاد بہت آئی ہےIbraheem Khaleel (1916–1992)