سنو تم غور سے تھوڑی سی ہے یہ داستاں میری

Vafa Barahi (1917–1993)

سنو تم غور سے تھوڑی سی ہے یہ داستاں میری

نہیں چلتی بیان شوق پر ہرگز زباں میری

تبسم اور پھر برق تبسم اف معاذ اللہ

چھپی ہے زندگی بھر کی اسی میں داستاں میری

پیام شوق دے کر وہ بلائیں گے مجھے اے دل

خیال خام تیرا ہے یہ قسمت ہے کہاں میری

کسی کی چشم میگوں میں سرور حسن رقصاں ہے

حیا خاموش فطرت ہے تمنا ہے جواں میری

فنا کے بھیس میں پنہاں ترا انجام ہستی ہے

یہی کہتی رہی مجھ سے وفاؔ عمر رواں میری