کام یہی ہے شام سویرے
Kaif Bhopali (1917–1991)کام یہی ہے شام سویرے
تیری گلی کے سو سو پھیرے
سامنے وہ ہیں زلف بکھیرے
کتنے حسیں ہیں آج اندھیرے
ہم تو ہیں تیرے پوجنے والے
پاؤں نہ پڑوا تیرے میرے
دل کو چرایا خیر چرایا
آنکھ چرا کر جا نہ لٹیرے
کام یہی ہے شام سویرے
تیری گلی کے سو سو پھیرے
سامنے وہ ہیں زلف بکھیرے
کتنے حسیں ہیں آج اندھیرے
ہم تو ہیں تیرے پوجنے والے
پاؤں نہ پڑوا تیرے میرے
دل کو چرایا خیر چرایا
آنکھ چرا کر جا نہ لٹیرے