بہار در بہار ہے

Vafa Barahi (1917–1993)

بہار در بہار ہے

چمن میں یہ پکار ہے

فضائے مرغزار ہے

ہوائے خوشگوار ہے

چلو چلو امنگ میں

بڑھو بڑھو ترنگ میں

گلوں پہ اک نکھار ہے

زمین لالہ زار ہے

خیال شعلہ بار ہے

نگاہ بے قرار ہے

بہار گو ہے جوش پر

خزاں ہے اس کے دوش پر

جو بحر ہے خوش آب ہے

وہ خوش ہے جو حباب ہے

سماں ہی لا جواب ہے

سکوں میں اضطراب ہے

نکھار ہے سنگار ہے

ابھار ہی ابھار ہے

نہ کوئی رازدار ہے

نہ کوئی غم گسار ہے

نہ دل پہ اختیار ہے

نہ جی کا اعتبار ہے

عجیب میرا حال ہے

کہ زندگی وبال ہے

چمن ہے سارا خندہ زن

طیور سب ہیں نغمہ زن

کھڑی ہوئی ہے ہر پھبن

خزاں کا پہنے پیرہن

رہے گا حسن دہر کیا

نہ ڈھائے گا یہ قہر کیا

نہ دل کا انتخاب ہے

نہ کوئی بے حجاب ہے

نہ عالم شباب ہے

جو دیکھتا ہوں خواب ہے

جہان کو بقا کہاں

کرم کہاں وفا کہاں