رخ آرزو پر حجاب محبت

Vafa Barahi (1917–1993)

رخ آرزو پر حجاب محبت

کھلا اور اس سے شباب محبت

سوا یاس کے میں نے دیکھا نہ کچھ بھی

اٹھائی جب اس نے نقاب محبت

شکستہ ہوا ساز ہستی ہمارا

نہ چھیڑے کوئی اب رباب محبت

ہماری فغاں کی رسائی ہو کیوں کر

کہ اونچی بہت ہے جناب محبت

نہیں کچھ بھی تاثیر میری دعا میں

یہ شاید ہے عہد شباب محبت

اٹھاتا ہوں آزار میں دل لگا کر

بہ تعبیر حسرت بہ خواب محبت

وفاؔ کوئے الفت سے ہرگز نہ ہٹنا

ملے گا یہیں تم کو باب محبت