یہ شب فرقت میں رنگ گردش ایام تھا

Vafa Barahi (1917–1993)

یہ شب فرقت میں رنگ گردش ایام تھا

صبح کا تارا جسے سمجھا چراغ شام تھا

ہم سنا کرتے تھے اکثر گرمیٔ محشر کا نام

اب جو دیکھا اک ستم گر آفتاب بام تھا

امتیاز عشق تھا پھر کیسے لا سکتا تھا تاب

حشر بس اس پر بپا تھا اس کا جلوہ عام تھا

عشق پر لازم تھا خود فرہاد کا سر توڑنا

پختگی کا اس کو دعویٰ اس کو سودا خام تھا

آپ تو مختار تھے جو دل نے چاہا وہ کیا

اور پھر الٹا مجھی پر حشر میں الزام تھا

مست ساقی کی نظر کی جنبشوں کو کیا کہوں

یعنی بے پردہ جواب گردش ایام تھا

میں نشیمن میں رہا صیاد کا یوں بھی اسیر

دل میں تھا میرے قفس آنکھوں میں میری دام تھا

نامہ بر کو جان دے دی اضطراب شوق میں

بس یہی نامہ مرا تھا بس یہی پیغام تھا

امتحان عشق اس نے کیوں لیا اے اہل عشق

پختہ کاروں کی طرف سے کیا خیال خام تھا

مجھ کو جب سے ہوش ہے لاکھوں طرح کے غم میں ہوں

ہوش میں جب تک نہ تھا مجھ کو بہت آرام تھا

کیا وفاؔ کی سرگزشت غم کہوں یادش بخیر

مر رہا تھا اور لب پر آپ ہی کا نام تھا