شب وصل کیوں ہیں رلانے کی باتیں

Vafa Barahi (1917–1993)

شب وصل کیوں ہیں رلانے کی باتیں

کرو کچھ تو ہنسنے ہنسانے کی باتیں

دل ناتواں کو منانے کی باتیں

نہیں ہیں نہیں ہاتھ آنے کی باتیں

مناسب ہے کچھ انتظام مسرت

پلاؤ پلاؤ شراب محبت

تمہی کہہ دو کچھ حد ہے ظلم و جفا کی

وفا کی طرح ساری دنیا ہے شاکی

کبھی یہ ادا کی کبھی وہ ادا کی

رہی شکل ابتر دل مبتلا کی

نہیں ہیں نہیں ہیں محبت کی باتیں

حقیقت میں یہ ہیں عداوت کی باتیں