Poetry
Poet
Meter
- جور کس کا ہے ستم کس کا ہےکچھ نہ پوچھو یہ کرم کس کا ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- دنیا میں کوئی تجھ سا بشر ہو نہیں سکتایوں کوئی کہے لاکھ مگر ہو نہیں سکتاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- زمانے کو زیر و زبر کر دیایہ کیا تو نے اے چشم تر کر دیاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- سو بلندی بھی جو ہو پستی ہےاپنی ہستی بھی کوئی ہستی ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- کاوش غم بھی ہے ظالم اور تیری یاد بھییہ دل مضطر مرا ویراں بھی ہے آباد بھیFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- کسی پر طبیعت کا آنا غضب ہےغضب ہے غضب دل لگانا غضب ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- میں کہوں کیا انہیں یقیں ہی نہیںوہ کہے جاتے ہیں نہیں ہی نہیںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- نشہ میں چور رہا کرتا ہوںروز مخمور رہا کرتا ہوںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- وہ پہلی سی چشم مروت نہیں ہےوہ اگلی سی مجھ پر عنایت نہیں ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- ہاں کیا کہا کہ غیر سے الفت بھی کچھ نہیںیہ سچ اگر ہے پھر مجھے حجت بھی کچھ نہیںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- یوں کہنے کو خنجر کو بھی خنجر ہی کہیں گےپر کیا تیرے ابرو کے برابر ہی کہیں گےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- آپ کو غیر سے الفت ہو گئیہاں جبھی تو مجھ سے نفرت ہو گئیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- آج ہیں کعبہ نشیں کل ساکن بت خانہ ہماپنے بیگانے سے یکساں رکھتے ہیں یارانہ ہمFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- اشک آنکھوں میں جگر میں درد سوزش دل میں ہےاک محبت کی بدولت گھر کا گھر مشکل میں ہےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سےدل توڑتے ہو کیوں مرا پیماں شکنی سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیںکہتے ہیں عرض بوسہ پہ وہ دم بہ دم نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- ایک دم اس نے جدا کی نہ نقاب عارضنہ ہوا دور شب وصل حجاب عارضFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- اے شیخ مجھ کو خواہش باغ ارم نہیںکوچہ بتوں کا میرے لیے اس سے کم نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کیہے آخر انتہا ہر ابتدا کیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- بن گئی دم پر یہاں ابروئے جاناں دیکھ کرچونکتا ہوں رات پھر خواب پریشاں دیکھ کرFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- تڑپیں کب تک تری فرقت میں محبت والےآ ادھر بھی کبھی او ناز و نزاکت والےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- تم کو جو مجھ سے شکایت ہے کہ شکوہ نہ کروبندہ پرور ہمیں ہر روز ستایا نہ کروFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتاسر جائے مگر عشق کا سودا نہیں جاتاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- رہے ہمارے لئے شغل یاں کوئی نہ کوئیدیا کرے ہمیں غم آسماں کوئی نہ کوئیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- شیدا مجھے بنایا گیسوئے عنبریں کادل ہی مرا ہوا ہے لو سانپ آستیں کاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- کیوں کہوں میں کہ ستم کا میں سزاوار نہ تھادل دیا تھا تجھے کس طرح گنہ گار نہ تھاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- ہاں جھوٹ ہے وہ جان سے تم پر فدا نہیںسچ کہہ رہے ہو غیر کا یہ حوصلہ نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیںتم کو نہیں یقین تو شک کی دوا نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- یہ سچ ہے ان میں یہ باتیں تو ہاں ہیںبڑے بد ظن نہایت بد گماں ہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- کردار دیکھنا ہے تو صورت نہ دیکھیےملتا نہیں زمیں کا پتا آسمان سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- کل جو گلے ملتے تھے مجھ سے کل جو مجھے پہچانتے تھےآج مسافر جان کے کیسے رستے وہ انجان ہوئےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- کہہ کے یہ پھیر لیا منہ مرے افسانے سےفائدہ روز کہیں بات کے دہرانے سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- تھی نئی کافر ادا کی شان ہنستے بولتےعاشقوں نے دے دیا ایمان ہنستے بولتےChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- جذبۂ شوق بڑھاتا ہے جدا ہو جانااوپری دل سے ذرا مجھ سے خفا ہو جاناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- جہاں رنگ و بو ہے اور میں ہوںبہار آرزو ہے اور میں ہوںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- خاکساری سے یہاں تک مرتبہ اونچا ہوادیدۂ گردوں کی پتلی خاک آگ کا پتلا ہواChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- دل کشی نام کو بھی عالم امکاں میں نہیںاپنے مطلب کا کوئی پھول گلستاں میں نہیںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- دور نگاہ ساقی مستانہ ایک ہےپیمانے دو ہیں گردش پیمانہ ایک ہےChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- دیتے ہیں میرے جام میں دیکھیں شراب کبآتا ہے ماہتاب کے گھر آفتاب کبChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- فتنۂ روزگار کی باتیںایسی ہیں جیسے یار کی باتیںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیراکہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیراChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کاعکس ہے قوس قزح میں تری انگڑائی کاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- مجھ کو خاک در مے خانہ بنایا ہوتاپھر اسی خاک سے پیمانہ بنایا ہوتاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- نہیں دیتے کبھی دنیا کو دل اہل نظر اپناکبھی مرغاب تر کرتا نہیں پانی سے پر اپناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- ہر آرزو میں رنگ ہے باغ و بہار کاکانٹا بھی ایک پھول ہے اس خار زار کاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- ہندو مسلمانوں کا اتحادChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- ہندی ہندوستانیChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- غالبؔChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- نئی دہلیChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- نورجہاںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)