Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جور کس کا ہے ستم کس کا ہےکچھ نہ پوچھو یہ کرم کس کا ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  2. دنیا میں کوئی تجھ سا بشر ہو نہیں سکتایوں کوئی کہے لاکھ مگر ہو نہیں سکتاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  3. زمانے کو زیر و زبر کر دیایہ کیا تو نے اے چشم تر کر دیاFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  4. سو بلندی بھی جو ہو پستی ہےاپنی ہستی بھی کوئی ہستی ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  5. کاوش غم بھی ہے ظالم اور تیری یاد بھییہ دل مضطر مرا ویراں بھی ہے آباد بھیFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  6. کسی پر طبیعت کا آنا غضب ہےغضب ہے غضب دل لگانا غضب ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  7. میں کہوں کیا انہیں یقیں ہی نہیںوہ کہے جاتے ہیں نہیں ہی نہیںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  8. نشہ میں چور رہا کرتا ہوںروز مخمور رہا کرتا ہوںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  9. وہ پہلی سی چشم مروت نہیں ہےوہ اگلی سی مجھ پر عنایت نہیں ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  10. ہاں کیا کہا کہ غیر سے الفت بھی کچھ نہیںیہ سچ اگر ہے پھر مجھے حجت بھی کچھ نہیںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  11. یوں کہنے کو خنجر کو بھی خنجر ہی کہیں گےپر کیا تیرے ابرو کے برابر ہی کہیں گےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
  12. آپ کو غیر سے الفت ہو گئیہاں جبھی تو مجھ سے نفرت ہو گئیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  13. آج ہیں کعبہ نشیں کل ساکن بت خانہ ہماپنے بیگانے سے یکساں رکھتے ہیں یارانہ ہمFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  14. اشک آنکھوں میں جگر میں درد سوزش دل میں ہےاک محبت کی بدولت گھر کا گھر مشکل میں ہےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  15. اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سےدل توڑتے ہو کیوں مرا پیماں شکنی سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  16. امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیںکہتے ہیں عرض بوسہ پہ وہ دم بہ دم نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  17. ایک دم اس نے جدا کی نہ نقاب عارضنہ ہوا دور شب وصل حجاب عارضFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  18. اے شیخ مجھ کو خواہش باغ ارم نہیںکوچہ بتوں کا میرے لیے اس سے کم نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  19. بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کیہے آخر انتہا ہر ابتدا کیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  20. بن گئی دم پر یہاں ابروئے جاناں دیکھ کرچونکتا ہوں رات پھر خواب پریشاں دیکھ کرFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  21. تڑپیں کب تک تری فرقت میں محبت والےآ ادھر بھی کبھی او ناز و نزاکت والےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  22. تم کو جو مجھ سے شکایت ہے کہ شکوہ نہ کروبندہ پرور ہمیں ہر روز ستایا نہ کروFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  23. دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتاسر جائے مگر عشق کا سودا نہیں جاتاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  24. رہے ہمارے لئے شغل یاں کوئی نہ کوئیدیا کرے ہمیں غم آسماں کوئی نہ کوئیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  25. شیدا مجھے بنایا گیسوئے عنبریں کادل ہی مرا ہوا ہے لو سانپ آستیں کاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  26. کیوں کہوں میں کہ ستم کا میں سزاوار نہ تھادل دیا تھا تجھے کس طرح گنہ گار نہ تھاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  27. ہاں جھوٹ ہے وہ جان سے تم پر فدا نہیںسچ کہہ رہے ہو غیر کا یہ حوصلہ نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  28. ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیںتم کو نہیں یقین تو شک کی دوا نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  29. یہ سچ ہے ان میں یہ باتیں تو ہاں ہیںبڑے بد ظن نہایت بد گماں ہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  30. کردار دیکھنا ہے تو صورت نہ دیکھیےملتا نہیں زمیں کا پتا آسمان سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  31. کل جو گلے ملتے تھے مجھ سے کل جو مجھے پہچانتے تھےآج مسافر جان کے کیسے رستے وہ انجان ہوئےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  32. کہہ کے یہ پھیر لیا منہ مرے افسانے سےفائدہ روز کہیں بات کے دہرانے سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  33. تھی نئی کافر ادا کی شان ہنستے بولتےعاشقوں نے دے دیا ایمان ہنستے بولتےChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  34. جذبۂ شوق بڑھاتا ہے جدا ہو جانااوپری دل سے ذرا مجھ سے خفا ہو جاناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  35. جہاں رنگ و بو ہے اور میں ہوںبہار آرزو ہے اور میں ہوںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  36. خاکساری سے یہاں تک مرتبہ اونچا ہوادیدۂ گردوں کی پتلی خاک آگ کا پتلا ہواChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  37. دل کشی نام کو بھی عالم امکاں میں نہیںاپنے مطلب کا کوئی پھول گلستاں میں نہیںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  38. دور نگاہ ساقی مستانہ ایک ہےپیمانے دو ہیں گردش پیمانہ ایک ہےChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  39. دیتے ہیں میرے جام میں دیکھیں شراب کبآتا ہے ماہتاب کے گھر آفتاب کبChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  40. فتنۂ روزگار کی باتیںایسی ہیں جیسے یار کی باتیںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  41. کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیراکہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیراChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  42. لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کاعکس ہے قوس قزح میں تری انگڑائی کاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  43. مجھ کو خاک در مے خانہ بنایا ہوتاپھر اسی خاک سے پیمانہ بنایا ہوتاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  44. نہیں دیتے کبھی دنیا کو دل اہل نظر اپناکبھی مرغاب تر کرتا نہیں پانی سے پر اپناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  45. ہر آرزو میں رنگ ہے باغ و بہار کاکانٹا بھی ایک پھول ہے اس خار زار کاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  46. ہندو مسلمانوں کا اتحادChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  47. ہندی ہندوستانیChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  48. غالبؔChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  49. نئی دہلیChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  50. نورجہاںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)