سو بلندی بھی جو ہو پستی ہے

Faheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)

سو بلندی بھی جو ہو پستی ہے

اپنی ہستی بھی کوئی ہستی ہے

دامن صبر نہ ہاتھوں سے چھٹے

اک طرح کی یہ تہی دستی ہے

غیر تو غیر ہیں اب آوازے

مجھ پہ میری ہی فغاں کستی ہے

ہم نہیں بیچتے دل پھر کیا ہے

اس میں کچھ زور زبردستی ہے

غیر سرشار مئے نخوت ہے

اس کو مستی نہیں بد مستی ہے

لاکھوں ہیں بیچنے والے لے لو

جنس دل اب تو بہت سستی ہے

اس کے سر چڑھ کے نہ اترا اے زلف

ہر بلندی کے لئے پستی ہے

جن کو حاصل ہے توکل ان کو

فاقہ مستی میں بھی اک مستی ہے

دل کا کانٹا تو نکالیں آ کر

جن کو دعوائے سبک دستی ہے

اک نگہ جنس وفا کی قیمت

انہیں مہنگی ہے ہمیں سستی ہے

تجھ پہ مٹنا ہے حیات ابدی

نیستی ہی سے مری ہستی ہے

دل کے جانے پہ میں روتا ہوں فہیمؔ

مجھ پہ اک خلق خدا ہنستی ہے