کسی پر طبیعت کا آنا غضب ہے

Faheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)

کسی پر طبیعت کا آنا غضب ہے

غضب ہے غضب دل لگانا غضب ہے

اگر ایک دن ہو تو سب کچھ بھگت لوں

مگر روز کا رنج اٹھانا غضب ہے

ہیں مجبوریاں دل کی خود سو طرح کی

یہ بیکس ہے اس کو ستانا غضب ہے

شب ہجر کا ماجرا کچھ نہ پوچھو

نہ چھیڑو اسے یہ فسانہ غضب ہے

کہیں وار خالی بھی جاتا ہے اس کا

کہ تیر نظر کا نشانہ غضب ہے

نہ ہمت پڑے گی کسی بوالہوس کی

ترا جانچنا آزمانا غضب ہے

شب ہجر دل کا مچلنا ستم ہے

ترا وصل میں روٹھ جانا غضب ہے

دماغ ان کا دل لے کے کیا پوچھتے ہو

کسی شے کا مفت ہاتھ آنا غضب ہے

وہ شرمیلی آنکھیں وہ نیچی نگاہیں

وہ منہ پھیر کر مسکرانا غضب ہے

ستم خیز یوں تو ہر اک سانحہ ہے

مگر دل کا ہاتھوں سے جانا غضب ہے

فہیمؔ اب تو بس جان پر آ بنی ہے

ستم ہے ستم دل لگانا غضب ہے