Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. شری کرشنChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  2. اداؤں کا کچھ اس انداز سے پردہ اٹھا دینالجانا کسمسانا دیکھ لینا مسکرا دیناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  3. نالہ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوںمیرے لئے زمین پر صاحب عرش آئے کیوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  4. جو معنی مضموں ہے وہی عنواں ہےواجب ہی میں ایک صورت امکاں ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  5. کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہےمانند حباب ابھر کے اتر آتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  6. اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہےآواز شکست دل میں اک راگ بھی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  7. اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہیاللہ بہت نہیں تو تھوڑا ہی سہیAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  8. جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیںخوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  9. دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوںغم سامنے آتا ہے جدھر جاتا ہوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  10. سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیاکس کی مردود کی ہوئی ہے دنیاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  11. سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نےسب دفتر پارینہ ڈبویا میں نےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  12. کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہےکچھ روز میں ایک قطرہ گہر ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  13. گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہےمستی میں خیال بادہ نازیبا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  14. مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہےیاں تک مجھے تیری ہی کشش لائی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  15. ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہےاک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  16. ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہےہر اک ذرے میں کچھ نہ کچھ جوہر ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  17. ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلاہر بزم طرب سے دل شکستہ نکلاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  18. ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیںہر وقت صدائے ارحم ارحم میں رہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  19. یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کاپیدا ہوا پھر کوئی نہ اس صورت کاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  20. یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتاکوئی تم سا نظر نہیں آتاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  21. کیا قصور اے عرض مطلب حسرت پرجوش کاچشم حیراں کا گلہ ہے یا لب خاموش کاUmmeed Amethvi (1878–1950)
  22. آپ سے شرح آرزو تو کریںآپ تکلیف گفتگو تو کریںFani Badayuni (1879–1941)
  23. آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹبچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹFani Badayuni (1879–1941)
  24. آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئیکچھ تمہیں کو مری خبر نہ ہوئیFani Badayuni (1879–1941)
  25. آہ سے یا آہ کی تاثیر سےجی بہل جاتا کسی تدبیر سےFani Badayuni (1879–1941)
  26. اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہےچشم بد دور دلہن بن کے شباب آتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
  27. ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہےصبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہےFani Badayuni (1879–1941)
  28. اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہےاللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
  29. ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئےمری قضا کو وہ لائے دلہن بنائے ہوئےFani Badayuni (1879–1941)
  30. اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئےمیں جو رویا مسکرا کر رہ گئےFani Badayuni (1879–1941)
  31. اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیامار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیاFani Badayuni (1879–1941)
  32. اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہےتو اعتبار ہستی بے اعتبار ہےFani Badayuni (1879–1941)
  33. بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھامل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھاFani Badayuni (1879–1941)
  34. بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلادم تو نکلا مگر آزردۂ احساں نکلاFani Badayuni (1879–1941)
  35. بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپناعمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپناFani Badayuni (1879–1941)
  36. بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گیمنہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گیFani Badayuni (1879–1941)
  37. تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گادل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گاFani Badayuni (1879–1941)
  38. تیرا نگاہ شوق کوئی راز داں نہ تھاآنکھوں کو ورنہ جلوۂ جاناں کہاں نہ تھاFani Badayuni (1879–1941)
  39. جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہےکچھ یوں بھی زباں نہیں کھلتی کچھ درد سوا ہو جاتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
  40. جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالیدنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالیFani Badayuni (1879–1941)
  41. جذب دل جب بروئے کار آیاہر نفس سے پیام یار آیاFani Badayuni (1879–1941)
  42. جستجوئے نشاط مبہم کیادل میسر ہے لذت غم کیاFani Badayuni (1879–1941)
  43. جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھاجو خاک کا ذرہ تھا وحشت کدۂ دل تھاFani Badayuni (1879–1941)
  44. جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دوراس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دورFani Badayuni (1879–1941)
  45. جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہےاب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
  46. حاصل علم بشر جہل کا عرفاں ہوناعمر بھر عقل سے سیکھا کیے ناداں ہوناFani Badayuni (1879–1941)
  47. خدا اثر سے بچائے اس آستانے کودعا چلی ہے مری قسمت آزمانے کوFani Badayuni (1879–1941)
  48. خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کاایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کاFani Badayuni (1879–1941)
  49. خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریںزخم پیدا کریں یا زخم دل اچھا کریںFani Badayuni (1879–1941)
  50. خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتاوہ مل گئے تو مجھے آسماں نہیں ملتاFani Badayuni (1879–1941)