Poetry
Poet
Meter
- شری کرشنChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- اداؤں کا کچھ اس انداز سے پردہ اٹھا دینالجانا کسمسانا دیکھ لینا مسکرا دیناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- نالہ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوںمیرے لئے زمین پر صاحب عرش آئے کیوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- جو معنی مضموں ہے وہی عنواں ہےواجب ہی میں ایک صورت امکاں ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہےمانند حباب ابھر کے اتر آتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہےآواز شکست دل میں اک راگ بھی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہیاللہ بہت نہیں تو تھوڑا ہی سہیAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیںخوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوںغم سامنے آتا ہے جدھر جاتا ہوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیاکس کی مردود کی ہوئی ہے دنیاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نےسب دفتر پارینہ ڈبویا میں نےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہےکچھ روز میں ایک قطرہ گہر ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہےمستی میں خیال بادہ نازیبا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہےیاں تک مجھے تیری ہی کشش لائی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہےاک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہےہر اک ذرے میں کچھ نہ کچھ جوہر ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلاہر بزم طرب سے دل شکستہ نکلاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیںہر وقت صدائے ارحم ارحم میں رہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کاپیدا ہوا پھر کوئی نہ اس صورت کاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتاکوئی تم سا نظر نہیں آتاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- کیا قصور اے عرض مطلب حسرت پرجوش کاچشم حیراں کا گلہ ہے یا لب خاموش کاUmmeed Amethvi (1878–1950)
- آپ سے شرح آرزو تو کریںآپ تکلیف گفتگو تو کریںFani Badayuni (1879–1941)
- آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹبچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹFani Badayuni (1879–1941)
- آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئیکچھ تمہیں کو مری خبر نہ ہوئیFani Badayuni (1879–1941)
- آہ سے یا آہ کی تاثیر سےجی بہل جاتا کسی تدبیر سےFani Badayuni (1879–1941)
- اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہےچشم بد دور دلہن بن کے شباب آتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
- ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہےصبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہےFani Badayuni (1879–1941)
- اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہےاللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
- ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئےمری قضا کو وہ لائے دلہن بنائے ہوئےFani Badayuni (1879–1941)
- اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئےمیں جو رویا مسکرا کر رہ گئےFani Badayuni (1879–1941)
- اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیامار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیاFani Badayuni (1879–1941)
- اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہےتو اعتبار ہستی بے اعتبار ہےFani Badayuni (1879–1941)
- بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھامل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھاFani Badayuni (1879–1941)
- بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلادم تو نکلا مگر آزردۂ احساں نکلاFani Badayuni (1879–1941)
- بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپناعمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپناFani Badayuni (1879–1941)
- بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گیمنہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گیFani Badayuni (1879–1941)
- تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گادل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گاFani Badayuni (1879–1941)
- تیرا نگاہ شوق کوئی راز داں نہ تھاآنکھوں کو ورنہ جلوۂ جاناں کہاں نہ تھاFani Badayuni (1879–1941)
- جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہےکچھ یوں بھی زباں نہیں کھلتی کچھ درد سوا ہو جاتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
- جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالیدنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالیFani Badayuni (1879–1941)
- جذب دل جب بروئے کار آیاہر نفس سے پیام یار آیاFani Badayuni (1879–1941)
- جستجوئے نشاط مبہم کیادل میسر ہے لذت غم کیاFani Badayuni (1879–1941)
- جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھاجو خاک کا ذرہ تھا وحشت کدۂ دل تھاFani Badayuni (1879–1941)
- جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دوراس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دورFani Badayuni (1879–1941)
- جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہےاب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
- حاصل علم بشر جہل کا عرفاں ہوناعمر بھر عقل سے سیکھا کیے ناداں ہوناFani Badayuni (1879–1941)
- خدا اثر سے بچائے اس آستانے کودعا چلی ہے مری قسمت آزمانے کوFani Badayuni (1879–1941)
- خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کاایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کاFani Badayuni (1879–1941)
- خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریںزخم پیدا کریں یا زخم دل اچھا کریںFani Badayuni (1879–1941)
- خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتاوہ مل گئے تو مجھے آسماں نہیں ملتاFani Badayuni (1879–1941)