جور کس کا ہے ستم کس کا ہے

Faheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)

جور کس کا ہے ستم کس کا ہے

کچھ نہ پوچھو یہ کرم کس کا ہے

دل بے تاب تڑپ کر کہہ دے

پوچھتے وہ ہیں کہ غم کس کا ہے

تیرے کوچے میں بتا دے سچ مچ

آج یہ نقش قدم کس کا ہے

جلوہ افروز تو ہی تو ہے تمام

دیر کس کا ہے حرم کس کا ہے

دل ناشاد ابھی تک قائم

نہ تڑپنے سے بھرم کس کا ہے

آمد پیر مغاں ہے شاید

منتظر شیخ حرم کس کا ہے

چرخ بھی دیکھ کے چکر میں ہے

کہ یہ انداز ستم کس کا ہے

بے کسی راہ لگ اپنی یہ نہ پوچھ

دھیان مجھ کو شب غم کس کا ہے

دل کے بے ساختہ جو پار ہوا

ہائے یہ تیر ستم کس کا ہے

سنتے ہی بولے یہ ہے نظم فہیمؔ

ایسا شوخ اور قلم کس کا ہے