نشہ میں چور رہا کرتا ہوں
Faheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)نشہ میں چور رہا کرتا ہوں
روز مخمور رہا کرتا ہوں
غیر کے دل میں جگہ ہے میری
بن کے ناسور رہا کرتا ہوں
ہوتی رہتی ہے تجلی ہر دم
برسر طور رہا کرتا ہوں
نار ہو کر میں چمکتا ہوں کبھی
کبھی میں نور رہا کرتا ہوں
اب کہاں وصل کی راتیں ہیں نصیب
اب تو مہجور رہا کرتا ہوں
اختیار اپنی طبیعت پہ نہیں
ہائے مجبور رہا کرتا ہوں
شعلہ رویوں سے بہت بچتا ہوں
دور ہی دور رہا کرتا ہوں
تیرے کوچے میں اٹھا کر ذلت
ہے جو منظور رہا کرتا ہوں
رنج و غم نے مجھے مارا ہے فہیمؔ
سخت رنجور رہا کرتا ہوں