جذبۂ شوق بڑھاتا ہے جدا ہو جانا
Chandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)جذبۂ شوق بڑھاتا ہے جدا ہو جانا
اوپری دل سے ذرا مجھ سے خفا ہو جانا
قوس سجدے میں جھکی رہ گئی جب سے دیکھا
ان کی انگڑائی کا محراب نما ہو جانا
دم کا کیا ٹھیک ہے دم بھر میں ہے دم بھر میں نہیں
چلتے پھرتے مری بالیں پہ ذرا ہو جانا
موسم گل میں انہیں غیر ادھر لے آئے
کام آیا مرے زخموں کا ہرا ہو جانا
بند ہے عشق کے بندوں کے لیے آزادی
قید ہے قید محبت سے رہا ہو جانا
ان کے تیور بھی ذرا دیکھتے رہنا قاصد
خط کے پرزے جو نظر آئیں ہوا ہو جانا
کھیل ہے ہستئ فانی کا دگر گوں ہو کر
نور میں نور فضاؤں میں فضا ہو جانا
کچھ تو اے رحمت ساقی رہے کیفیؔ کا خیال
آ کے میخانے پہ چھانا تو گھٹا ہو جانا