تھی نئی کافر ادا کی شان ہنستے بولتے
Chandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)تھی نئی کافر ادا کی شان ہنستے بولتے
عاشقوں نے دے دیا ایمان ہنستے بولتے
وصل کے ہونے لگے سامان ہنستے بولتے
مشکلیں اپنی ہوئیں آسان ہنستے بولتے
غیر کی جانب ہے چہرہ ہاتھ ہیں میری طرف
دے رہے ہیں کس ادا سے پان ہنستے بولتے
جانکنی میں موت کے کیا کیا مزے لیتے رہے
عاشقوں نے دی خدا کو جان ہنستے بولتے
خندہ آمیزی مرے زخم جگر کی دیکھنا
آ رہے ہیں یار کے پیکان ہنستے بولتے
سینکڑوں دلبر ہزاروں جان کے گاہک بنے
عاشقوں کی چل گئی دوکان ہنستے بولتے
محفل جاناں میں اس نے آپ ہی پہنچا دیا
یار اپنا ہو گیا دربان ہنستے بولتے
ہم پیالہ وہ ہوئے کیفیؔ دم بادہ کشی
ہو گئے پورے مرے ارمان ہنستے بولتے