دنیا میں کوئی تجھ سا بشر ہو نہیں سکتا
Faheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)دنیا میں کوئی تجھ سا بشر ہو نہیں سکتا
یوں کوئی کہے لاکھ مگر ہو نہیں سکتا
جو کام ہے دل کا وہ جگر کر نہیں سکتا
یہ درد ادھر کا ہے ادھر ہو نہیں سکتا
کیا بیٹھے ہیں بے کار اب اٹھئے بھی یہاں سے
اغیار کا گھر آپ کا گھر ہو نہیں سکتا
اے قلب ذرا تو ہی کشش اپنی دکھا دے
نالوں میں ہمارے تو اثر ہو نہیں سکتا
وہ دیکھ چکے خوب سا جب نخل محبت
کہنے لگے اس میں تو ثمر ہو نہیں سکتا
موجود ہر اک جا ہے وہ اے ناصح نا فہم
کعبہ ہی اک اللہ کا گھر ہو نہیں سکتا
دنیا میں حسیں لاکھ ہوں لیکن مجھے کیا کام
یہ دل اب ادھر سے تو ادھر ہو نہیں سکتا
دنیا میں حسیں لاکھ ہوں لیکن مجھے کیا کام
یہ دل اب ادھر سے تو ادھر ہو نہیں سکتا
آنسو کی جھڑی تو ہی لگا دے وہ نہ جانیں
کچھ تجھ سے تو اے دیدۂ تر ہو نہیں سکتا
جو چاہو کہو غیر کی تعریف میں لیکن
یہ سینہ یہ دل اور یہ جگر ہو نہیں سکتا
حق یہ ہے کہ اس عارض پر نور کے آگے
سرسبز کبھی بھی گل تر ہو نہیں سکتا
اے باد سحر حکم جو اس کا نہ ہو تجھ سے
تنکا بھی ادھر سے تو ادھر ہو نہیں سکتا
اللہ مصیبت سے شب غم کی بچائے
انسان کا پتھر کا جگر ہو نہیں سکتا
بے فائدہ غیروں سے الجھتے ہیں فہیمؔ آپ
اس سے تو کوئی ان کا ضرر ہو نہیں سکتا