میں کہوں کیا انہیں یقیں ہی نہیں
Faheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)میں کہوں کیا انہیں یقیں ہی نہیں
وہ کہے جاتے ہیں نہیں ہی نہیں
یا کوئی عاشق اس جہاں میں نہیں
یا کوئی آپ سا حسیں ہی نہیں
آپ بے مہر بھی ہیں ظالم بھی
مجھ سے سنئے فقط حسیں ہی نہیں
دیکھے گا جائے گا جو جنت میں
عیش زاہد ہمیں یہیں ہی نہیں
جس پہ کندہ ہو نقش الفت کا
دل سے بہتر کوئی نگیں ہی نہیں
اور کچھ کہئے اس سمجھ پہ انہیں
شیخ صاحب کو آفریں ہی نہیں
دشت وحشت مزے دکھا دیتا
کیا کہیں جیب و آستیں ہی نہیں
یا ترا سنگ در نہیں ظالم
یا مری آج یہ جبیں ہی نہیں
خود اسے اے فہیمؔ کہہ دیکھو
گر مری بات کا یقیں ہی نہیں