Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- نگاہوں میں خمار آتا ہوا محسوس ہوتا ہےتصور جام چھلکاتا ہوا محسوس ہوتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- نئے اک شہر کو صبح سفر کیا لے چلی مجھ کوصدائیں دے رہی ہے ایک چھوٹی سی گلی مجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
- نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنانہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپناQateel Shifai (1919–2001)
- ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گےبہاریں ہم کو ڈھونڈھیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- الگ بیٹھے تھے پھر بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پراگر ہے تشنگی کامل تو پیمانے بھی آئیں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کہاں بچ کر چلی اے فصل گل مجھ آبلہ پا سےمرے قدموں کی گلکاری بیاباں سے چمن تک ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقیتجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- یہی اک بات ساقی کو بتانے کی ضرورت ہےہمارے قرب میں اک بادہ خانے کی ضرورت ہےRaaz Layalpuri (b. 1920)
- نہ جانے کیوں ہمارے دل کو تم نے دل نہیں سمجھایہ شیشہ توڑ ڈالا پیار کے قابل نہیں سمجھاS. H. Bihari (1920–1987)
- تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیںوہی آنسو وہی آہیں وہی غم ہے جدھر جائیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دوتمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزریدل زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزریSahir Ludhianvi (1921–1980)
- محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نےزمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- مرے سرکش ترانے سن کے دنیا یہ سمجھتی ہےکہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں تخلیق شرر کرتا ہوں اپنے سوز پنہاں سےمیں پروانہ نہیں جو آگ لوں ہر شمع سوزاں سےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- رسا ہوں یا نہ ہوں نالے یہ نالوں کا مقدر ہےحفیظؔ آنسو بہا کر جی تو ہلکا کر لیا میں نےHafeez Merathi (1922–2000)
- محبت چیخ بھی خاموشی بھی نغمہ بھی نعرہ بھییہ اک مضمون ہے کتنے ہی عنوانوں سے وابستہHafeez Merathi (1922–2000)
- تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیںیہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھامجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھاD. Raj Kanwal (b. 1923)
- سکوت غم کو بھی طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہےمحبت میں خموشی کو زباں کہنا ہی پڑتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- ہوئی جب شمع روشن بزم میں پروانے جاگ اٹھےجنوں نے اس طرح انگڑائی لی دیوانے جاگ اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہےانہیں مل کر انہیں کی ہو گئی معلوم ہوتی ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
- اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانادعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جاناAda Jafri (1924–2015)
- حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہےزمانے کو خدا کے نام پر بہکایا جاتا ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- کسی منزل پہ بھی ظلم و ستم سے ڈر نہیں سکتاکہ میں سجدہ کبھی باطل کے آگے کر نہیں سکتاOm Prakash Laghar (b. 1924)
- کمال ذوق سجدہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگاوہیں وہ نقش پا ابھرا جہاں رکھ دی جبیں میں نےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- کہیں ساون میں بادل جھوم کر آیا نہیں اب تککسی نے گیت بھی ملہار کا گایا نہیں اب تکOm Prakash Laghar (b. 1924)
- مصیبت میں کسی کو مبتلا کوئی نہیں کرتابرے اعمال سے یہ اپنے سر خود لائی جاتی ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
- بہت پچھتاؤ گے تم درد مندوں سے خفا ہو کرکہ گل مرجھا کے رہ جاتا ہے خاروں سے جدا ہو کرBaldev Raaj (b. 1924)
- دل تنہا میں اب احساس محرومی نہیں شایدتری دوری بھی اب دل کے لئے دوری نہیں شایدHabeeb Hyderabadi (1924–1989)
- جو دل پر بوجھ ہے یا رب ذرا بھی کم نہیں ہوتازمانہ غم تو دیتا ہے شریک غم نہیں ہوتاChaman Bhatnagar (b. 1925)
- میں اپنی زندگی سے ایک لمحے کا سوالی ہوںوہ لمحہ جو مرے نغموں کو چھو کر جاوداں کر دےQaisarul Jafri (1926–2005)
- ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے یہ اجنبی لمحےکہیں ایسا نہ ہو پرچھائیاں دے کر گزر جائیںQaisarul Jafri (1926–2005)
- مسافر چلتے چلتے تھک گئے منزل نہیں ملتیقدم کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو فاصلہ جیسےQaisarul Jafri (1926–2005)
- نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گےتجھے ہم کیا سے کیا اے زلف جانانہ بنا دیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گےگریباں چاک جب تک کر نہ لیں گے دم نہیں لیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیںمحبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والےKaleem Aajiz (1926–2015)
- سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہیہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیںKaleem Aajiz (1926–2015)
- گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گےہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھامرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھاQamar Jameel (1927–2000)
- مرے دل سے محبت کی فراوانی نہیں جاتیمیں اکثر سوچتا ہوں کیوں یہ نادانی نہیں جاتیB S Jain Jauhar (b. 1927)
- اگا سبزہ در و دیوار پر آہستہ آہستہہوا خالی صداؤں سے نگر آہستہ آہستہMunir Niazi (1928–2006)
- تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوںمیں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
- جفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میںوفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میںMunir Niazi (1928–2006)
- سحر کے خواب کا مجھ پر اثر کچھ دیر رہنے دوکسی کے حال کی مجھ کو خبر کچھ دیر رہنے دوMunir Niazi (1928–2006)
- محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگیگزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگیMunir Niazi (1928–2006)
- بہت میں نے سنی ہے آپ کی تقریر مولانامگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولاناHabib Jalib (1928–1993)
- بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتایہ تڑپانا تڑپنا رات بھر دیکھا نہیں جاتاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلےارادوں میں ہمارے جانے کتنے پیچ و خم نکلےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)