مسافر چلتے چلتے تھک گئے منزل نہیں ملتی

Qaisarul Jafri (1926–2005)

مسافر چلتے چلتے تھک گئے منزل نہیں ملتی

قدم کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو فاصلہ جیسے