میں تخلیق شرر کرتا ہوں اپنے سوز پنہاں سے

Ehsan Darbhangavi (1922–1998)

میں تخلیق شرر کرتا ہوں اپنے سوز پنہاں سے

میں پروانہ نہیں جو آگ لوں ہر شمع سوزاں سے

کیا وحشت نے عقل و عشق میں اک ربط نو پیدا

گئے وہ دن کے دیوانے الجھتے تھے گریباں سے

نہ جانے امتحاں ہے آج کس کی نا خدائی کا

کہ جو بھی موج اٹھتی ہے وہ بڑھ جاتی ہے طوفاں سے

کشش منزل کی دامن کھینچتی تھی ورنہ مشکل تھا

گزرنا فصل گل میں بے نیازانہ گلستاں سے

کہیں کیا ہم کہاں آ کے ترے وحشی نے دم توڑا

خرد سمجھا بجھا کے لے تو آئی تھی بیاباں سے

بقول استاد کے احساںؔ ہے سونا دل کا کاشانہ

چلو تھوڑی سی رونق مانگ لائیں بزم جاناں سے