Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اورغیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اورEhsan Jafri (1929–2002)
- غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوںبے چینیٔ ارباب وطن دیکھ رہا ہوںEhsan Jafri (1929–2002)
- شب خون کا خطرہ ہے ابھی جاگتے رہناقاتل پس پردہ ہے ابھی جاگتے رہناRaaz Allahabadi (1929–1996)
- بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میںاترا تھا مرا ماہ منور اسی گھر میںMustafa Zaidi (1930–1970)
- لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھیکس کام کی یہ اپنی وسیع النظری بھیMustafa Zaidi (1930–1970)
- سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہےاس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیاسنتے رہے ہم لب پہ ترا نام نہ آیاMustafa Zaidi (1930–1970)
- دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہےزنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- اس منظر سادہ میں کئی جال بندھے تھےجب اس کا گریبان کھلا بال بندھے تھےAhmad Faraz (1931–2008)
- ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتےجو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتےAhmad Faraz (1931–2008)
- جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہواے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہوAhmad Faraz (1931–2008)
- جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھیدیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھیAhmad Faraz (1931–2008)
- خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتےبسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتےAhmad Faraz (1931–2008)
- خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھاجو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھاAhmad Faraz (1931–2008)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آAhmad Faraz (1931–2008)
- سب لوگ لیے سنگ ملامت نکل آئےکس شہر میں ہم اہل محبت نکل آئےAhmad Faraz (1931–2008)
- قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتاوہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتاAhmad Faraz (1931–2008)
- وہ دشمن جاں جان سے پیارا بھی کبھی تھااب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھاAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ حبس تو جلتی ہوئی رت سے بھی گراں ہےاے ٹھہرے ہوئے ابر کرم اب تو برس بھیAhmad Faraz (1931–2008)
- سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گےوہ خون بھی تھوکے گا تو پروا نہ کریں گےJaun Elia (1931–2002)
- ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہےوحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
- پتھر کی ہتھیلی پہ کوئی پھول اگا دےذروں کی تب و تاب سے سورج کو جلا دےParkash Fikri (1931–2008)
- لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہآنکھوں میں کوئی خواب پرونے نہیں دیتاParkash Fikri (1931–2008)
- ظالم سے محبت کا صلہ مانگ رہے ہیںنادان ہیں پتھر سے وفا مانگ رہے ہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
- اک درد سا پہلو میں مچلتا ہے سر شامجب چاند جھروکے میں نکلتا ہے سر شامHafiz Taib (1931–2004)
- ایسی کوئی درپیش ہوا آئی ہمارےجو ساتھ ہی پتے بھی اڑا لائی ہمارےZafar Iqbal (b. 1932)
- بدلہ یہ لیا حسرت اظہار سے ہم نےآغاز کیا اپنے ہی انکار سے ہم نےZafar Iqbal (b. 1932)
- بینائی سے باہر کبھی اندر مجھے دیکھےممکن ہی نہیں ہے وہ برابر مجھے دیکھےZafar Iqbal (b. 1932)
- پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہےنیند آئے تو اس حال میں سونا ہی بہت ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگےوہ نقش کہ تھا داغ ملاقات سے آگےZafar Iqbal (b. 1932)
- رہ رہ کے زبانی کبھی تحریر سے ہم نےقائل کیا اس کو اسی تدبیر سے ہم نےZafar Iqbal (b. 1932)
- گرنے کی طرح کا نہ سنبھلنے کی طرح کاسارا وہ سفر خواب میں چلنے کی طرح کاZafar Iqbal (b. 1932)
- یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھااس شہر میں تعریف کے قابل بھی وہی تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- اس دشت ہلاکت سے گزر کون کرے گابے امن خرابوں میں سفر کون کرے گاPartav Rohila (1932–2016)
- اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھیسچ جانیے دکان کے اندر نہیں کچھ بھیPartav Rohila (1932–2016)
- کچھ یاد نہیں اس کو کہ کیا بھول گیا ہےدل جیسے کہ جینے کی ادا بھول گیا ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
- جب خیمہ زنو! زور ہواؤں کا گھٹے گاخوں میری ہتھیلی کا طنابوں پہ ملے گاKaifi Wijdani (b. 1932)
- کیا جرم ہمارا ہے بتا کیوں نہیں دیتےمجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتےHafeez Banarasi (1933–2008)
- یادوں کو دھواں کر کے اڑا کیوں نہیں دیتےطاقت ہے تو تم مجھ کو بھلا کیوں نہیں دیتےHafeez Banarasi (1933–2008)
- یہ کیسی ہوائے غم و آزار چلی ہےخود باد بہاری بھی شرر بار چلی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- آسان نہیں مرحلۂ ترک وفا بھیمدت ہوئی ہم اس کو بھلانے میں لگے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
- کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایتخود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- وہ بات حفیظؔ اب نہیں ملتی کسی شے میںجلووں میں کمی ہے کہ نگاہوں میں کمی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- دھندلائی ہوئی شام تھیالسائی ہوئی سیGulzar (b. 1934)
- اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتےہم بھی سفر جاں کا ارادہ نہیں رکھتےShakeb Jalali (1934–1966)
- کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتیاونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتیShakeb Jalali (1934–1966)
- کیا جانیے منزل ہے کہاں جاتے ہیں کس سمتبھٹکی ہوئی اس بھیڑ میں سب سوچ رہے ہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- کچھ تم سے شکایت تھی نہ دنیا سے گلہ تھامیں یوں ہی ذرا دیر کو خاموش ہوا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- خط لکھ کے کبھی اور کبھی خط کو جلا کرتنہائی کو رنگین بنا کیوں نہیں لیتےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہےیہ پیڑ جو اس راہ میں صدیوں سے کھڑا ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)