Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اورغیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اورEhsan Jafri (1929–2002)
  2. غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوںبے چینیٔ ارباب وطن دیکھ رہا ہوںEhsan Jafri (1929–2002)
  3. شب خون کا خطرہ ہے ابھی جاگتے رہناقاتل پس پردہ ہے ابھی جاگتے رہناRaaz Allahabadi (1929–1996)
  4. بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میںاترا تھا مرا ماہ منور اسی گھر میںMustafa Zaidi (1930–1970)
  5. لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھیکس کام کی یہ اپنی وسیع النظری بھیMustafa Zaidi (1930–1970)
  6. سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہےاس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  7. ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیاسنتے رہے ہم لب پہ ترا نام نہ آیاMustafa Zaidi (1930–1970)
  8. دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہےزنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  9. اس منظر سادہ میں کئی جال بندھے تھےجب اس کا گریبان کھلا بال بندھے تھےAhmad Faraz (1931–2008)
  10. ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتےجو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتےAhmad Faraz (1931–2008)
  11. جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہواے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہوAhmad Faraz (1931–2008)
  12. جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھیدیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھیAhmad Faraz (1931–2008)
  13. خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتےبسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتےAhmad Faraz (1931–2008)
  14. خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھاجو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھاAhmad Faraz (1931–2008)
  15. رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آAhmad Faraz (1931–2008)
  16. سب لوگ لیے سنگ ملامت نکل آئےکس شہر میں ہم اہل محبت نکل آئےAhmad Faraz (1931–2008)
  17. قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتاوہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتاAhmad Faraz (1931–2008)
  18. وہ دشمن جاں جان سے پیارا بھی کبھی تھااب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھاAhmad Faraz (1931–2008)
  19. یہ حبس تو جلتی ہوئی رت سے بھی گراں ہےاے ٹھہرے ہوئے ابر کرم اب تو برس بھیAhmad Faraz (1931–2008)
  20. سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گےوہ خون بھی تھوکے گا تو پروا نہ کریں گےJaun Elia (1931–2002)
  21. ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہےوحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہےQabil Ajmeri (1931–1962)
  22. پتھر کی ہتھیلی پہ کوئی پھول اگا دےذروں کی تب و تاب سے سورج کو جلا دےParkash Fikri (1931–2008)
  23. لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہآنکھوں میں کوئی خواب پرونے نہیں دیتاParkash Fikri (1931–2008)
  24. ظالم سے محبت کا صلہ مانگ رہے ہیںنادان ہیں پتھر سے وفا مانگ رہے ہیںDanish Aligarhi (b. 1931)
  25. اک درد سا پہلو میں مچلتا ہے سر شامجب چاند جھروکے میں نکلتا ہے سر شامHafiz Taib (1931–2004)
  26. ایسی کوئی درپیش ہوا آئی ہمارےجو ساتھ ہی پتے بھی اڑا لائی ہمارےZafar Iqbal (b. 1932)
  27. بدلہ یہ لیا حسرت اظہار سے ہم نےآغاز کیا اپنے ہی انکار سے ہم نےZafar Iqbal (b. 1932)
  28. بینائی سے باہر کبھی اندر مجھے دیکھےممکن ہی نہیں ہے وہ برابر مجھے دیکھےZafar Iqbal (b. 1932)
  29. پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہےنیند آئے تو اس حال میں سونا ہی بہت ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  30. چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگےوہ نقش کہ تھا داغ ملاقات سے آگےZafar Iqbal (b. 1932)
  31. رہ رہ کے زبانی کبھی تحریر سے ہم نےقائل کیا اس کو اسی تدبیر سے ہم نےZafar Iqbal (b. 1932)
  32. گرنے کی طرح کا نہ سنبھلنے کی طرح کاسارا وہ سفر خواب میں چلنے کی طرح کاZafar Iqbal (b. 1932)
  33. یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھااس شہر میں تعریف کے قابل بھی وہی تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  34. اس دشت‌ ہلاکت سے گزر کون کرے گابے امن خرابوں میں سفر کون کرے گاPartav Rohila (1932–2016)
  35. اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھیسچ جانیے دکان کے اندر نہیں کچھ بھیPartav Rohila (1932–2016)
  36. کچھ یاد نہیں اس کو کہ کیا بھول گیا ہےدل جیسے کہ جینے کی ادا بھول گیا ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
  37. جب خیمہ زنو! زور ہواؤں کا گھٹے گاخوں میری ہتھیلی کا طنابوں پہ ملے گاKaifi Wijdani (b. 1932)
  38. کیا جرم ہمارا ہے بتا کیوں نہیں دیتےمجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتےHafeez Banarasi (1933–2008)
  39. یادوں کو دھواں کر کے اڑا کیوں نہیں دیتےطاقت ہے تو تم مجھ کو بھلا کیوں نہیں دیتےHafeez Banarasi (1933–2008)
  40. یہ کیسی ہوائے غم و آزار چلی ہےخود باد بہاری بھی شرر بار چلی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  41. آسان نہیں مرحلۂ ترک وفا بھیمدت ہوئی ہم اس کو بھلانے میں لگے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
  42. کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایتخود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  43. وہ بات حفیظؔ اب نہیں ملتی کسی شے میںجلووں میں کمی ہے کہ نگاہوں میں کمی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  44. دھندلائی ہوئی شام تھیالسائی ہوئی سیGulzar (b. 1934)
  45. اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتےہم بھی سفر جاں کا ارادہ نہیں رکھتےShakeb Jalali (1934–1966)
  46. کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتیاونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتیShakeb Jalali (1934–1966)
  47. کیا جانیے منزل ہے کہاں جاتے ہیں کس سمتبھٹکی ہوئی اس بھیڑ میں سب سوچ رہے ہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  48. کچھ تم سے شکایت تھی نہ دنیا سے گلہ تھامیں یوں ہی ذرا دیر کو خاموش ہوا تھاKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  49. خط لکھ کے کبھی اور کبھی خط کو جلا کرتنہائی کو رنگین بنا کیوں نہیں لیتےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  50. رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہےیہ پیڑ جو اس راہ میں صدیوں سے کھڑا ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)