Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گاجادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گاWali Dakani (1667–1707)
  2. مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کےزخمی ہیں محباں تری شمشیر جفا کےWali Dakani (1667–1707)
  3. اے یار نصیحت کو اگر گوش کرے تویہ طور و طریق اپنے فراموش کرے توFaez Dehlvi (1690–1738)
  4. مجھ پاس کبھی وو قد‌ شمشاد نہ آیااس گھر منے وو دل بر استاد نہ آیاFaez Dehlvi (1690–1738)
  5. اے یار مجھ افسردۂ ہجراں کو پہنچ تواے رشک مسیحا تن بے جاں کو پہنچ توWali Uzlat (1692–1775)
  6. گر میرے لہو رونے کا باران بنے گاکوچہ ترا رشک چمنستان بنے گاWali Uzlat (1692–1775)
  7. احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گاجو خاک کو اس کی نہ تو برباد کرے گاShah Hatim (1699–1783)
  8. اس واسطے نکلوں ہوں ترے کوچے سے بچ بچہر ایک مچاتا ہے مجھے دیکھ کے کچ کچShah Hatim (1699–1783)
  9. اے باغ حیا دل کی گرہ کھول سخن بولتنگی ہے مرے حال پر اے غنچہ دہن بولSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  10. اے دوست تلطف سیں مرے حال کوں آ دیکھسینے کی اگن مہر کے پانی سیں بجھا دیکھSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  11. پرخوں ہے جگر لالۂ سیراب کی سوگندرنگینیٔ داغ دل بیتاب کی سوگندSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  12. رشتے میں تری زلف کے ہے جان ہمارابے جا نہیں سنبل کے اوپر مان ہماراSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  13. عشاق کا دل داغ کا اندازہ ہوا محضپیشانی دلبر پہ عجب غازہ ہوا محضSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  14. وحشت کو مری دیکھ کہ مجنوں نے کہا بسمجنوں نیں تو کیا دامن ہاموں نے کہا بسSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  15. ہے جنبش مژگاں میں تری تیر کی آوازاس تیر میں ہے صید کی تکبیر کی آوازSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  16. اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانیگو تج کو لقب ہم نے دیا عرش مکانیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  17. بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھاہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  18. بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کیشاید کہ ہوئی کارگر اب آہ کسو کیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  19. دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہےہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جی ہے تو جہاں ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  20. دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموشیہ سبحہ فراموش وہ زنار فراموشMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  21. کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کودے آگ ابھی شعلۂ آواز قفس کوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  22. گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میںخط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  23. گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھیاے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  24. مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میںقاضی کے گرفتار نت اعلام کا ہوں میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  25. مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کاجوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  26. ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارتکافی ہے مرے نالے کو بلبل کی اشارتMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  27. یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردشدریا میں ہو جس طرح سے گرداب کی گردشMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  28. جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گےیہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  29. سوداؔ کی جو بالیں پہ گیا شور قیامتخدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  30. یہ تو نہیں کہتا ہوں کہ سچ مچ کرو انصافجھوٹی بھی تسلی ہو تو جیتا ہی رہوں میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  31. اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کامذہب میں مرے کفر ہے انکار بتاں کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  32. کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائقہر بت ہے مرے دیر کا معبود خلائقTaban Abdul Hai (1715–1749)
  33. کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبسیہ نفس ہوس ناک و بد آموز و مہوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
  34. ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبتطائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبتTaban Abdul Hai (1715–1749)
  35. لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کربیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کرTaban Abdul Hai (1715–1749)
  36. آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسفاشفاق عنایات کرم مہر تلطفQaem Chandpuri (1722–1793)
  37. اک ڈھب پہ کبھو وہ بت خودکام نہ پایادیکھا میں جو کچھ صبح اسے شام نہ پایاQaem Chandpuri (1722–1793)
  38. تا چند سخن سازئ نیرنگ خراباتیاں قصد خرابی ہے نہ آہنگ خراباتQaem Chandpuri (1722–1793)
  39. چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبتپر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبتQaem Chandpuri (1722–1793)
  40. زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نےجی بھی یوں ہی چاہے تھا کرامات کی تو نےQaem Chandpuri (1722–1793)
  41. مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آجکل کیا ہے جو ملنا ہے مری جان تو مل آجQaem Chandpuri (1722–1793)
  42. جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوےاس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوےMir Taqi Mir (1723–1810)
  43. جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کاکل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  44. چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبتمایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبتMir Taqi Mir (1723–1810)
  45. دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالالے یار مرے سلمہ اللہ تعالیMir Taqi Mir (1723–1810)
  46. دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گاوابستہ ترے مو کا پریشان رہے گاMir Taqi Mir (1723–1810)
  47. عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایااس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایاMir Taqi Mir (1723–1810)
  48. غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائےیہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائےMir Taqi Mir (1723–1810)
  49. کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کاشاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  50. کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریںفریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریںMir Taqi Mir (1723–1810)