Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گاجادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گاWali Dakani (1667–1707)
- مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کےزخمی ہیں محباں تری شمشیر جفا کےWali Dakani (1667–1707)
- اے یار نصیحت کو اگر گوش کرے تویہ طور و طریق اپنے فراموش کرے توFaez Dehlvi (1690–1738)
- مجھ پاس کبھی وو قد شمشاد نہ آیااس گھر منے وو دل بر استاد نہ آیاFaez Dehlvi (1690–1738)
- اے یار مجھ افسردۂ ہجراں کو پہنچ تواے رشک مسیحا تن بے جاں کو پہنچ توWali Uzlat (1692–1775)
- گر میرے لہو رونے کا باران بنے گاکوچہ ترا رشک چمنستان بنے گاWali Uzlat (1692–1775)
- احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گاجو خاک کو اس کی نہ تو برباد کرے گاShah Hatim (1699–1783)
- اس واسطے نکلوں ہوں ترے کوچے سے بچ بچہر ایک مچاتا ہے مجھے دیکھ کے کچ کچShah Hatim (1699–1783)
- اے باغ حیا دل کی گرہ کھول سخن بولتنگی ہے مرے حال پر اے غنچہ دہن بولSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اے دوست تلطف سیں مرے حال کوں آ دیکھسینے کی اگن مہر کے پانی سیں بجھا دیکھSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- پرخوں ہے جگر لالۂ سیراب کی سوگندرنگینیٔ داغ دل بیتاب کی سوگندSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- رشتے میں تری زلف کے ہے جان ہمارابے جا نہیں سنبل کے اوپر مان ہماراSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عشاق کا دل داغ کا اندازہ ہوا محضپیشانی دلبر پہ عجب غازہ ہوا محضSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- وحشت کو مری دیکھ کہ مجنوں نے کہا بسمجنوں نیں تو کیا دامن ہاموں نے کہا بسSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ہے جنبش مژگاں میں تری تیر کی آوازاس تیر میں ہے صید کی تکبیر کی آوازSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانیگو تج کو لقب ہم نے دیا عرش مکانیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھاہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کیشاید کہ ہوئی کارگر اب آہ کسو کیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہےہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جی ہے تو جہاں ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموشیہ سبحہ فراموش وہ زنار فراموشMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کودے آگ ابھی شعلۂ آواز قفس کوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میںخط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھیاے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میںقاضی کے گرفتار نت اعلام کا ہوں میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کاجوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارتکافی ہے مرے نالے کو بلبل کی اشارتMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردشدریا میں ہو جس طرح سے گرداب کی گردشMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گےیہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- سوداؔ کی جو بالیں پہ گیا شور قیامتخدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- یہ تو نہیں کہتا ہوں کہ سچ مچ کرو انصافجھوٹی بھی تسلی ہو تو جیتا ہی رہوں میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- اے مرد خدا ہو تو پرستار بتاں کامذہب میں مرے کفر ہے انکار بتاں کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائقہر بت ہے مرے دیر کا معبود خلائقTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کھوتا ہی نہیں ہے ہوس مطعم و ملبسیہ نفس ہوس ناک و بد آموز و مہوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبتطائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبتTaban Abdul Hai (1715–1749)
- لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کربیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کرTaban Abdul Hai (1715–1749)
- آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسفاشفاق عنایات کرم مہر تلطفQaem Chandpuri (1722–1793)
- اک ڈھب پہ کبھو وہ بت خودکام نہ پایادیکھا میں جو کچھ صبح اسے شام نہ پایاQaem Chandpuri (1722–1793)
- تا چند سخن سازئ نیرنگ خراباتیاں قصد خرابی ہے نہ آہنگ خراباتQaem Chandpuri (1722–1793)
- چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبتپر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبتQaem Chandpuri (1722–1793)
- زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نےجی بھی یوں ہی چاہے تھا کرامات کی تو نےQaem Chandpuri (1722–1793)
- مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آجکل کیا ہے جو ملنا ہے مری جان تو مل آجQaem Chandpuri (1722–1793)
- جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوےاس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوےMir Taqi Mir (1723–1810)
- جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کاکل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبتمایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبتMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالالے یار مرے سلمہ اللہ تعالیMir Taqi Mir (1723–1810)
- دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گاوابستہ ترے مو کا پریشان رہے گاMir Taqi Mir (1723–1810)
- عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایااس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایاMir Taqi Mir (1723–1810)
- غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائےیہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کاشاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریںفریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریںMir Taqi Mir (1723–1810)