اے یار نصیحت کو اگر گوش کرے تو
Faez Dehlvi (1690–1738)اے یار نصیحت کو اگر گوش کرے تو
یہ طور و طریق اپنے فراموش کرے تو
اک چشم کی گردش ستی بے ہوش کرے تو
اے سرو چماں آوے اگر میری بغل میں
جنت کا چمن خانۂ آغوش کرے تو
حوراں نہ کریں خلد کے گلبن کا نظارا
جب سیم بدن اپنے کو گل پوش کرے تو
اس فائزؔ بے چارے کی تب قدر پچھانے
اک جام محبت کا اگر نوش کرے تو