Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- کس دن برنگ زخم نیا گل کھلا نہیںکس شب بہ فیض اشک چراغاں ہوا نہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کیا ربط ایک درد سے بنتے چلے گئےجنگل میں جیسے راستے بنتے چلے گئےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیںخود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- ان پتھروں کے شہر میں دل کا گزر کہاںلے جائیں ہم اٹھا کے یہ شیشے کا گھر کہاںSaba Ikram (b. 1945)
- قدموں تلے تو دیکھ کے مجھ کو نہ طنز کرسایہ ہوں دن ڈھلا تو میں ہوں گا طویل ترSaba Ikram (b. 1945)
- لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لےوہ پیڑ نیم کا مرے اندر نہ دیکھ لےSaba Ikram (b. 1945)
- ہر پل جو کاٹتی ہے مجھے دھار ہی تو ہےاکرامؔ اپنی سانس بھی تلوار ہی تو ہےSaba Ikram (b. 1945)
- انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوںعیسیٰ نفس ہوں اور صلیبوں کے ساتھ ہوںNaseer Turabi (1945–2021)
- میں نے ارادہ جب بھی کیا ہے اڑان کااس کو خیال آیا ہے تیر و کمان کاHabeeb Kaifi (b. 1945)
- ملتا نہیں خود اپنے قدم کا نشاں مجھےکن مرحلوں میں چھوڑ گیا کارواں مجھےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھےجیسے تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھےIftikhar Naseem (1946–2011)
- سورج نئے برس کا مجھے جیسے ڈس گیاتجھ سے ملے ہوئے مجھے یہ بھی برس گیاIftikhar Naseem (1946–2011)
- یوں ہے تری تلاش پہ اب تک یقیں مجھےجیسے تو مل ہی جائے گا پھر سے کہیں مجھےIftikhar Naseem (1946–2011)
- اے ہم سفر یہ راہ بری کا گمان چھوڑکس نے کہا ہے تجھ سے قدم کے نشان چھوڑZafar Sahbai (b. 1946)
- دھندلاھٹوں میں گم تھے جو منظر چمک گئےمیری نظر سے کتنے ہی پردے سرک گئےZafar Sahbai (b. 1946)
- گل ہیں تو آپ اپنی ہی خوشبو میں سوچئےجو کچھ بھی سوچنا ہے وہ اردو میں سوچئےZafar Sahbai (b. 1946)
- خوش قامتی کے زعم میں دانائی جائے گیسورج نہ دیکھ آنکھ کی بینائی جائے گیBadr Jameel (b. 1946)
- اندھیارے آنکھ آنکھ میں پہنا گئی ہے شاماک چادر سیاہ کو پھیلا گئی ہے شامM. I. Sajid (b. 1946)
- سوز شعور عشق عطا ہو تو بات کرتیرے بھی دل میں خوف خدا ہو تو بات کرM. I. Sajid (b. 1946)
- جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیاوہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیاMohsin Naqvi (1947–1996)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھیمیری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھیMohsin Naqvi (1947–1996)
- سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کرزندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کرMohsin Naqvi (1947–1996)
- میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھاوہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھاMohsin Naqvi (1947–1996)
- کتنی سزا ملی ہے مجھے عرض حال پرپہرے لگے ہوئے ہیں مری بول چال پرJafar Baluch (b. 1947)
- وہ اپنی نفرتوں کو کہاں جا کے بانٹتااس کے لئے تو شہر میں آسان میں ہی تھاIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- جلوے کو پردا پردے کو جلوہ بنا دیااہل نظر کو تم نے تماشہ بنا دیاVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- باتوں سے تیری بات کی خوشبو نکل پڑےپہچان کا کہیں کوئی پہلو نکل پڑےHafeez Momin (b. 1948)
- کرتا رہا میں منتیں کم کی نہ کچھ دعاحاصل ہوا نہ کچھ تو خدا بے اثر لگاOzair Rahman (b. 1949)
- کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کروپتھر کو موم خون کو پانی لکھا کروDanish Farahi (1949–2023)
- بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیاایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیاYaseen Afzal (b. 1949)
- اندر کا زہر چوم لیا دھل کے آ گئےکتنے شریف لوگ تھے سب کھل کے آ گئےRahat Indori (1950–2020)
- چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیاآئینہ سارے شہر کی بینائی لے گیاRahat Indori (1950–2020)
- سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہےجب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہےRahat Indori (1950–2020)
- شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہمآندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہےRahat Indori (1950–2020)
- میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگگیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئےRahat Indori (1950–2020)
- مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کمبستی میں بچ گئے تھے مکاں کم بہت ہی کمP P Srivastava Rind (b. 1950)
- ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیاوحشت میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو کیاP P Srivastava Rind (b. 1950)
- جو بجھ گئے انہیں کو چراغوں کا نام دوبے چہرگی کو اپنی گلابوں کا نام دوLateef Ahmad Subhani (b. 1950)
- کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کراب تک کھڑے ہوئے ہیں وہیں ہاتھ جوڑ کرLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کیسی مہک کہاں کا کوئی پھول باغ میںبس رنگ بے وفائی ہے مقبول باغ میںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- محراب خوش قیام سے آگے نکل گئیخوشبو دیے کی شام سے آگے نکل گئیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- کیسا ہجوم کوچۂ تنہائی تھا کہ میںآگے بڑھا نہ دست و گریباں ہوئے بغیرLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھاچھوٹا سا اک دیا جو سر احتساب تھاYasmeen Hameed (b. 1951)
- ہم نے کسی کو عہد وفا سے رہا کیااپنی رگوں سے جیسے لہو کو جدا کیاYasmeen Hameed (b. 1951)
- دنیا لٹی تو دور سے تکتا ہی رہ گیاآنکھوں میں گھر کے خواب کا نقشہ ہی رہ گیاIbrahim Ashk (b. 1951)
- شیشے کا آدمی ہوں مری زندگی ہے کیاپتھر ہیں سب کے ہاتھ میں مجھ کو کمی ہے کیاIbrahim Ashk (b. 1951)
- گلشن میں لے کے چل کسی صحرا میں لے کے چلاے دل مگر سکون کی دنیا میں لے کے چلIbrahim Ashk (b. 1951)
- مشعل بکف کبھی تو کبھی دل بدست تھامیں سیل تیرگی میں تجلی پرست تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
- میں کب رہین ریگ بیابان یاس تھاصد خیمۂ بہار مرے آس پاس تھاIbrahim Ashk (b. 1951)
- مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیاسورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیاFaisal Ajmi (b. 1951)