قدموں تلے تو دیکھ کے مجھ کو نہ طنز کر
Saba Ikram (b. 1945)قدموں تلے تو دیکھ کے مجھ کو نہ طنز کر
سایہ ہوں دن ڈھلا تو میں ہوں گا طویل تر
اک چیخ دب کے رہ گئی نعروں کے شور میں
آگے جلوس بڑھ گیا اک لاش روند کر
ڈرتا ہوں سن کے صبح کے قدموں کی آہٹیں
میں ایک زرد رات کا ہوں آخری پہر
چاروں طرف ہے آگ تعاقب میں آپ کے
بہتر یہی ہے جائیے دریا میں اب اتر
اکرامؔ ایک درد کا اس دل میں ہے نواس
آباد ایک سنت کے دم سے ہے یہ کھنڈر