دھندلاھٹوں میں گم تھے جو منظر چمک گئے

Zafar Sahbai (b. 1946)

دھندلاھٹوں میں گم تھے جو منظر چمک گئے

میری نظر سے کتنے ہی پردے سرک گئے

اس سایۂ بدن میں ٹھہر جائیں اب تو ہم

بے نام منزلوں کے تجسس میں تھک گئے

یہ کس کے غم کی آنچ سے پگھلا ہے سنگ دل

آنکھوں سے میری آج پھر آنسو ٹپک گئے

خود کو تلاش کر کہ ہیں تجھ میں حقیقتیں

ان کی طرف نہ دیکھ جو سوئے فلک گئے

کانٹوں کی فصل ہے مری راہوں کا پیرہن

وہ راستے کدھر ہیں جو پھولوں سے ڈھک گئے

اجڑے بدن سنور نہ سکے یوں تو دوستو

باغوں میں رت جوان ہوئی پھل بھی پک گئے