Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Bahr-e Hindi Mutaqarib Musamman Muza'af

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف
Poet
Meter
Clear
  1. ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہےمیراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہےMeeraji (1912–1949)
  2. غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریںغم بھی راس نہ آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریںMeeraji (1912–1949)
  3. الجھن کی کہانیMeeraji (1912–1949)
  4. نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیاکیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیاMeeraji (1912–1949)
  5. باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہتدل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہتUmar Ansari (1912–2005)
  6. دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہےبہے پسینہ مکھڑے پر یا سورج پگھلا جائے ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  7. کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھیں دل کے آنگن میںکتنے سورج ڈوب گئے ہیں چہروں کے پیلے پن میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  8. وہی ہے وحشت وہی ہے نفرت آخر اس کا کیا ہے سببانساں انساں بہت رٹا ہے انساں انساں بنے گا کبAli Sardar Jafri (1913–2000)
  9. یاد آئے ہیں عہد جنوں کے کھوئے ہوئے دل دار بہتان سے دور بسائی بستی جن سے ہمیں تھا پیار بہتAli Sardar Jafri (1913–2000)
  10. پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہےپی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھاAli Sardar Jafri (1913–2000)
  11. آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پراس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پرJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  12. مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیاجتنے بھی بد نام ہوئے ہم اتنا اس نے پیار کیاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  13. ترغیب:پھر میں کام میں لگ جاؤں گا آ فرصت ہے پیار کریںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  14. جب اس کا بوسہ لیتا تھا سگریٹ کی بو نتھنوں میں گھس جاتی تھیمیں تمباکو نوشی کو اک عیب سمجھتا آیا ہوںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  15. کیوں حیرت سے تکتی ہے ایک اک چہرے کوکیا تجھ کو شکوہ ہے تیری گویائی کی طاقتAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  16. لو وہ چاہ شب سے نکلا پچھلے پہر پیلا مہتابذہن نے کھولی رکتے رکتے ماضی کی پارینہ کتابAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  17. اک بکس کہیں سے لائیں گے روغن سے اسے چمکائیں گےاک ڈبے میں باسی پھلکوں کا اک انبار لگائیں گےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  18. جنگل جنگل آگ لگی ہے بستی بستی ویراں ہےکھیتی کھیتی راکھ اڑتی ہے دنیا ہے کہ بیاباں ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  19. روح لبوں تک آ کر سوچے کیسے چھوڑوں قریۂ جاںیوسف قصر شہی میں بھی کب بھولا کنعاں کی گلیاںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  20. ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نےدین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نےKaif Bhopali (1917–1991)
  21. ہاں ان کے دلوں سے یہ پوچھو ارمانوں پہ کیا گزری ہےاوروں کو پلاتے رہتے ہیں اور خود پیاسے رہ جاتے ہیںQamar Jalalabadi (1917–2003)
  22. انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کیتم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کیQateel Shifai (1919–2001)
  23. پھول پہ دھول ببول پہ شبنم دیکھنے والے دیکھتا جااب ہے یہی انصاف کا عالم دیکھنے والے دیکھتا جاQateel Shifai (1919–2001)
  24. تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیںایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیںQateel Shifai (1919–2001)
  25. جانچ پرکھ کر دیکھ چکی تو ہر منہ بولے بھائی کوکہنے دے اب کوئی سچی بات قتیلؔ شفائی کوQateel Shifai (1919–2001)
  26. گاتے ہوئے پیڑوں کی خنک چھاؤں سے آگے نکل آئےہم دھوپ میں جلنے کو ترے گاؤں سے آگے نکل آئےQateel Shifai (1919–2001)
  27. میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گاآئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گاQateel Shifai (1919–2001)
  28. رات گئے تک گھایل نغمے کرتے ہیں اعلان یہاںیہ دنیا ہے سنگ دلوں کی کوئی نہیں انسان یہاںQateel Shifai (1919–2001)
  29. مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہےمذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  30. ناشادؔ نہ کوئی نغمہ ہے یہ درد بھرا اک نالہ ہےکیا سمجھے کوئی درد جگر جب چوٹ نہ دل پر کھائی ہوRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  31. اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہےاس پر ہی وشواس کرے ہے جس سے دھوکہ کھائے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  32. پی کر چین اگر آیا بھی کتنی دیر کو آئے گانشہ اک آوارہ پنچھی چہکے گا اڑ جائے گاHafeez Merathi (1922–2000)
  33. صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔدل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  34. بستی بستی کوچہ کوچہ شہر کو لالہ فام کیادیکھو تو ان اہل ہوس نے کیسا قتل عام کیاJalee Amrohvi (1922–2013)
  35. جانے کب طوفان بنے اور رستا رستا بچھ جائےبند بنا کر سو مت جانا دریا آخر دریا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
  36. دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پراب وہ کیا الزام دھرے گی ہم جیسے دیوانوں پرD. Raj Kanwal (b. 1923)
  37. گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چلمجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکلNasir Kazmi (1925–1972)
  38. ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہےکل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گاNasir Kazmi (1925–1972)
  39. عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیںہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  40. کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گاجس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
  41. ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنےکیا کیا عشق رچایا برسوں لکھیں تو روداد بنےQaisarul Jafri (1926–2005)
  42. وقت کے در پر بھی ہے بہت کچھ وقت کے در سے آگے بھیشام و سحر کے ساتھ بھی چلئے شام و سحر سے آگے بھیKaleem Aajiz (1926–2015)
  43. اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگدنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگKaleem Aajiz (1926–2015)
  44. جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میںزلف کی لہریں پیچاں جیسے ناگ ہو لپکا پانی میںZafar Hameedi (b. 1926)
  45. کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میںورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میںZafar Hameedi (b. 1926)
  46. اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کاصبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک ستاروں کاIbn-e-Insha (1927–1978)
  47. جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میںلیلیٰ تو اے قیس ملے گی دل کے دولت خانے میںIbn-e-Insha (1927–1978)
  48. جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہےکب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  49. دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچانشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچIbn-e-Insha (1927–1978)
  50. رات کے خواب سنائیں کس کو رات کے خواب سہانے تھےدھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھےIbn-e-Insha (1927–1978)