Poetry
Bahr-e Hindi Mutaqarib Musamman Muza'af
بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف- ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہےمیراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہےMeeraji (1912–1949)
- غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریںغم بھی راس نہ آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریںMeeraji (1912–1949)
- الجھن کی کہانیMeeraji (1912–1949)
- نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیاکیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیاMeeraji (1912–1949)
- باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہتدل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہتUmar Ansari (1912–2005)
- دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہےبہے پسینہ مکھڑے پر یا سورج پگھلا جائے ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھیں دل کے آنگن میںکتنے سورج ڈوب گئے ہیں چہروں کے پیلے پن میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وہی ہے وحشت وہی ہے نفرت آخر اس کا کیا ہے سببانساں انساں بہت رٹا ہے انساں انساں بنے گا کبAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یاد آئے ہیں عہد جنوں کے کھوئے ہوئے دل دار بہتان سے دور بسائی بستی جن سے ہمیں تھا پیار بہتAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہےپی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پراس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پرJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیاجتنے بھی بد نام ہوئے ہم اتنا اس نے پیار کیاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ترغیب:پھر میں کام میں لگ جاؤں گا آ فرصت ہے پیار کریںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- جب اس کا بوسہ لیتا تھا سگریٹ کی بو نتھنوں میں گھس جاتی تھیمیں تمباکو نوشی کو اک عیب سمجھتا آیا ہوںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- کیوں حیرت سے تکتی ہے ایک اک چہرے کوکیا تجھ کو شکوہ ہے تیری گویائی کی طاقتAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- لو وہ چاہ شب سے نکلا پچھلے پہر پیلا مہتابذہن نے کھولی رکتے رکتے ماضی کی پارینہ کتابAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- اک بکس کہیں سے لائیں گے روغن سے اسے چمکائیں گےاک ڈبے میں باسی پھلکوں کا اک انبار لگائیں گےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- جنگل جنگل آگ لگی ہے بستی بستی ویراں ہےکھیتی کھیتی راکھ اڑتی ہے دنیا ہے کہ بیاباں ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- روح لبوں تک آ کر سوچے کیسے چھوڑوں قریۂ جاںیوسف قصر شہی میں بھی کب بھولا کنعاں کی گلیاںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نےدین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نےKaif Bhopali (1917–1991)
- ہاں ان کے دلوں سے یہ پوچھو ارمانوں پہ کیا گزری ہےاوروں کو پلاتے رہتے ہیں اور خود پیاسے رہ جاتے ہیںQamar Jalalabadi (1917–2003)
- انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کیتم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کیQateel Shifai (1919–2001)
- پھول پہ دھول ببول پہ شبنم دیکھنے والے دیکھتا جااب ہے یہی انصاف کا عالم دیکھنے والے دیکھتا جاQateel Shifai (1919–2001)
- تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیںایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- جانچ پرکھ کر دیکھ چکی تو ہر منہ بولے بھائی کوکہنے دے اب کوئی سچی بات قتیلؔ شفائی کوQateel Shifai (1919–2001)
- گاتے ہوئے پیڑوں کی خنک چھاؤں سے آگے نکل آئےہم دھوپ میں جلنے کو ترے گاؤں سے آگے نکل آئےQateel Shifai (1919–2001)
- میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گاآئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گاQateel Shifai (1919–2001)
- رات گئے تک گھایل نغمے کرتے ہیں اعلان یہاںیہ دنیا ہے سنگ دلوں کی کوئی نہیں انسان یہاںQateel Shifai (1919–2001)
- مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہےمذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ناشادؔ نہ کوئی نغمہ ہے یہ درد بھرا اک نالہ ہےکیا سمجھے کوئی درد جگر جب چوٹ نہ دل پر کھائی ہوRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہےاس پر ہی وشواس کرے ہے جس سے دھوکہ کھائے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
- پی کر چین اگر آیا بھی کتنی دیر کو آئے گانشہ اک آوارہ پنچھی چہکے گا اڑ جائے گاHafeez Merathi (1922–2000)
- صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔدل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
- بستی بستی کوچہ کوچہ شہر کو لالہ فام کیادیکھو تو ان اہل ہوس نے کیسا قتل عام کیاJalee Amrohvi (1922–2013)
- جانے کب طوفان بنے اور رستا رستا بچھ جائےبند بنا کر سو مت جانا دریا آخر دریا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پراب وہ کیا الزام دھرے گی ہم جیسے دیوانوں پرD. Raj Kanwal (b. 1923)
- گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چلمجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکلNasir Kazmi (1925–1972)
- ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہےکل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گاNasir Kazmi (1925–1972)
- عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیںہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیںQaisarul Jafri (1926–2005)
- کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گاجس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
- ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنےکیا کیا عشق رچایا برسوں لکھیں تو روداد بنےQaisarul Jafri (1926–2005)
- وقت کے در پر بھی ہے بہت کچھ وقت کے در سے آگے بھیشام و سحر کے ساتھ بھی چلئے شام و سحر سے آگے بھیKaleem Aajiz (1926–2015)
- اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگدنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگKaleem Aajiz (1926–2015)
- جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میںزلف کی لہریں پیچاں جیسے ناگ ہو لپکا پانی میںZafar Hameedi (b. 1926)
- کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میںورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میںZafar Hameedi (b. 1926)
- اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کاصبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک ستاروں کاIbn-e-Insha (1927–1978)
- جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میںلیلیٰ تو اے قیس ملے گی دل کے دولت خانے میںIbn-e-Insha (1927–1978)
- جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہےکب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچانشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچIbn-e-Insha (1927–1978)
- رات کے خواب سنائیں کس کو رات کے خواب سہانے تھےدھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھےIbn-e-Insha (1927–1978)