ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنے

Qaisarul Jafri (1926–2005)

ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنے

کیا کیا عشق رچایا برسوں لکھیں تو روداد بنے

جن آنکھوں کو پڑھتے پڑھتے غزلیں کہنا سیکھ گئے

اب ان آنکھوں کے افسانے بھولی بصری یاد بنے

سارے پنچھی پنکھ سمیٹے ڈالی ڈالی بیٹھے ہیں

جس کا جی ہو جال بچھائے جو چاہے صیاد بنے

شاہ جہاں کا تاج محل ہو یا جوگی کی کٹیا ہو

سپنوں کے ہر روپ نگر کی مٹی ہی بنیاد بنے

برسوں ہم نے زہر پیا ہے شاعر اس کے بعد بنے

قیصرؔ میری غزلیں آخر کس کے غم میں ڈوبی ہیں

جب کاغذ پر لکھ کر دیکھوں ہر نغمہ فریاد بنے