Poetry
- اسرار کیسے کھول دوں اس آب و گل کے میںمہکا ہوا ہوں رات کی رانی سے مل کے میںYashab Tamanna (b. 1957)
- ایسا بھی نہیں درد نے وحشت نہیں کی ہےاس غم کی کبھی ہم نے اشاعت نہیں کی ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- بے مہر تعلق تھا جدا ہونا تھا اک دنجو کچھ بھی مرے ساتھ ہوا ہونا تھا اک دنYashab Tamanna (b. 1957)
- پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائیاب لکھیں گے کتاب تنہائیYashab Tamanna (b. 1957)
- ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھیروز ملنے کی پرانی وہی عادت رکھیYashab Tamanna (b. 1957)
- تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہاقسم سفر کی وہی ایک ہم رکاب رہاYashab Tamanna (b. 1957)
- چاہ تھی مہر تھی محبت تھیاس کی ہر بات ہی قیامت تھیYashab Tamanna (b. 1957)
- خواب تعبیر میں بدلتا ہےاس میں لیکن زمانہ لگتا ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- درد کی لہر تھی گزر بھی گئیاس کے ہم راہ چشم تر بھی گئیYashab Tamanna (b. 1957)
- روتا ہوا وہ بام مجھے یاد ہے ابھیدل میں بکھرتی شام مجھے یاد ہے ابھیYashab Tamanna (b. 1957)
- شام کو اس نے میری خاطر سجنا چھوڑ دیامیں نے بھی دفتر سے جلدی آنا چھوڑ دیاYashab Tamanna (b. 1957)
- کچھ بھی نہیں ہے پاس مرے اب سوائے یادشعلہ سا جل رہا ہے در دل متاع یادYashab Tamanna (b. 1957)
- کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہےکسی سفر کا مسافر ہو گھر ہی جاتا ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- کوئی اچھی خبر آتی نہیں ہےشب غم کی سحر آتی نہیں ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- لبوں سے آشنائی دے رہا ہےوہ لذت انتہائی دے رہا ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- موجود تھے وہ میرے ہی اندر کھلے ہوئےمجھ پر دعا کے بعد کھلے در کھلے ہوئےYashab Tamanna (b. 1957)
- میں پہلے دل کے لئے حوصلہ بناتا ہوںپھر اس کے بعد کوئی آسرا بناتا ہوںYashab Tamanna (b. 1957)
- وصل بھی ہجر تھا وصال نہ تھامل رہے تھے مگر خیال نہ تھاYashab Tamanna (b. 1957)
- وہ جو ایک چہرہ دمک رہا ہے جمال سےاسے مل رہی ہے خوشی کسی کے خیال سےYashab Tamanna (b. 1957)
- پچھلے برس میں تنہائی سےپہلی بار ڈراYashab Tamanna (b. 1957)
- تم نے اپنا حق مانگا تھامیں نے تمہارا رستہ روکاYashab Tamanna (b. 1957)
- چیخیں سن کر دوڑا آیاتین برس کا تھا جب میں نےYashab Tamanna (b. 1957)
- سب ذہنوں میں بچپن کےکچھ نقش پرانے ہوتے ہیںYashab Tamanna (b. 1957)
- سخت تھا پہلے پہلآہن سے سختYashab Tamanna (b. 1957)
- کھلاکہ دل کو سداYashab Tamanna (b. 1957)
- کیا ملاہمدرد بن کےYashab Tamanna (b. 1957)
- میری اپنی بیٹی سیماچھوٹی سی تھی جب وہ اپنیYashab Tamanna (b. 1957)
- میری بیٹی اور تمہاریعمر میں اتنا فرق نہیں ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- اس کلی کیبیکلی بھیYashab Tamanna (b. 1957)
- کسی کو دیکھنابس دیکھتے رہناYashab Tamanna (b. 1957)
- بادشاہ ہاتھی کے پاؤں کے نیچےاچانک نہیں آیا تھاYashab Tamanna (b. 1957)
- گدھوں کے ہرکارے نےراجہ کو بتایاYashab Tamanna (b. 1957)
- لیکن وہ نہیں گیااسے معلوم ہوا کہ اس کی ماںYashab Tamanna (b. 1957)
- ہم ایک دوسرے کالباس بنے تھےYashab Tamanna (b. 1957)
- ہم تب بھی چار ہی تھےمگر تین ذرا بڑے تھےYashab Tamanna (b. 1957)
- کرنے کو کچھ نہیں ہے نئے سال میں یشبؔکیوں نا کسی سے ترک محبت ہی کیجیےYashab Tamanna (b. 1957)