ہم تب بھی چار ہی تھے
Yashab Tamanna (b. 1957)ہم تب بھی چار ہی تھے
مگر تین ذرا بڑے تھے
اور چوتھا بہت ہی چھوٹا
اس لیے ہم تین گنے گئے
ماں نے کہا تھا
یہ آپس میں لڑتے بہت ہیں
باپ نے گرمیوں کے موسم میں
ٹھنڈے فرش پر
ننگے بدن ہمیں بھی ساتھ بٹھایا
اور ہنس کر کہا
چہار درویش قصہ کیا ہے
اس نے ہماری آپ کی چھوٹی چھوٹی
بے معنی شکایتیں سنیں
ہمیں اتفاق کی برکتیں بتائیں
تلقین کی
اور ہم دنیا میں مصروف ہو گئے
تب تک تم ہمارے ساتھ رہے
پھر ہم دنیا میں کھوئے ضرور
مگر مرکز کی جانب لوٹتے بھی رہے
اسی لیے جڑے رہے
لیکن نہ جانے کیوں
تم نے مکہ کے ساتھ
مدینہ بھی چھوڑ دیا
جب بڑا درویش راہیٔ ملک عدم ہوا
اور ہم تینوں سروں کو جوڑے