Poetry
- آنکھیں نیلی جھیل سی ہوںاور سرخ ہو جائیںOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- بہار ہو یا خزاں موسم دونوں ہینغمگی سے بھرپور ہیںOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- پنجرہ کھلاقفل ٹوٹنے کی آوازOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- سرما کی جھڑیکسی پرانے گیت کی دھن کی طرحOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- غروب ہوتے سورج کیسنہری کرنیںOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- یہاں سب لوگ کہتے ہیںجدائی موت جیسی ہےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- اجالا تاریکی میں منتقل ہوتا دیکھ کربنجر ذہن پرOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- الہام کی سرسبز روشنیوجود کوOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- ایک دائرے پہ کھڑے ہو کروہ دھن سننا چاہ رہی ہوںOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- بڑھتی ہوئی خنکی کے ساتھدرختوں نےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- تجھے دیکھنے کے بعدتخیل کے دریا میں ابھرتی موج نےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- چائے کا آدھا کپ ہاتھ میں لیےوہ سیڑھیوں پہ جا بیٹھیOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- حبس زدہ اداسی روح اور بدن کوجکڑ چکی تھیOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- خزاں کی دستکدھند میں لپٹے رستےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- دل اتنی شدت سے دھڑکاکہ آنکھ کو درد کا قطرہOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- دن ادھورا تھا اورشام کی چائے میں چینی کی جگہOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- دھوپ کی سرگوشی سےزمین کی بھربھری مٹی مرتعش ہوئیOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- دیا بجھا دواب اندھیرے سے خطرہ نہیںOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- ساون کی سنہری جھڑی کےمترنم قطروں کا رقص کچھ تلاشتا ہےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- فلک کی نیلی چادر کا کوناکھینچ کر ساتویں جانبOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- قہقہہ کس نے ایجاد کیاتحقیق جاری ہےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- کائناتی وسعت دیکھنے کے لیےمیں نے گول دائرے میں قدم رکھاOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- کوئی بتائے گا کس کو اس کا ادراک ہواکسی پہ صبر اترا ہےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- کہاں تم جان پاؤ گےکہ اس تپتے ہوئے صحرا میں ننگے پاؤں چلنے کیOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- کیسے پکاروں کہ میری پکار کا جواب آئےسماعتیں بنجرOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- مجھے سبز سفر در پیش ہےسورج مکھی کا باغOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- میرے نزدیک محبت الہامی شے ہےیہ آسمانوں سے اترتی ہےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- ہجر کے تپتے ہوئے صحرا میںکوئی بیمار شفایاب نہ ہو پائے اسےOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- یاد کے پتوں کا رنگہمیشہ سبز نہیں رہاOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)
- یادوں کے حصار میں جکڑے وجود پہشب نے آخری دستک دیOmainuz Zahra Sayyad (b. 2000)