خزاں کی دستک

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

خزاں کی دستک

دھند میں لپٹے رستے

سرد ہوا کے تھپیڑوں سے

نبرد آزما ہیں

الاؤ کے پاس

شال اوڑھے

کاغذ کے ٹکڑوں میں

متاع حیات جلاتی ہوئی لڑکی

داستان دل سناتے ہوئے

آنسوؤں کے چند قطرے گرے

آگ سسک اٹھی

سناٹے کی دہشت

کسی طوفاں کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے

ٹک ٹک ٹک

گھڑی کی کوک سنتے

سماعتیں ساتھ چھوڑنے لگیں

منظر دھندلا گئے

وجود کے صحرا میں

ریت اڑنے لگی

اور خامشی

اس کے لبوں پہ جا کر سو گئی