چائے کا آدھا کپ ہاتھ میں لیے

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

چائے کا آدھا کپ ہاتھ میں لیے

وہ سیڑھیوں پہ جا بیٹھی

رات

آخری سانسیں لے رہی تھی

چہرے پہ تھکن کے آثار واضح تھے

خشک ہونٹ

خالی نگاہیں

دل عجیب اضطراب کا شکار تھا

کوئی داغ سلگ رہا ہو جیسے

وہ شاید رونا چاہ رہی تھی

مگر آنسو

خشک ہو چکے تھے

اور آنکھیں صحرا

کوئی ہجر

آخری سانسیں لے رہا تھا

دور مسجد میں اذان کی آواز گونجی

وہ اٹھی

بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہو گئی

خشک آنکھیں تر ہو چکی تھیں

ہاں

وہ چائے کا آدھا کپ

ہجر سمیت

وہاں سیڑھیوں پہ ہی ٹھنڈا ہو چکا تھا