پنجرہ کھلا
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)پنجرہ کھلا
قفل ٹوٹنے کی آواز
اک ایسا گیت بنی
جو صدیوں بعد لوٹنے والی خوشی پہ گایا جائے
آزاد کئے جا چکے ہو
مقید رہنا منزل نہیں
شادمانی کے سارے سر
تمہارے پروں سے نکلتے ہیں
تمہارے قبیلے کی اک خوشبو
اداسی زیب تن کئے
بھٹک رہی ہے
یہ قوس و قزح سے رنگین افق
صدائیں دے رہے ہیں
بیتاب نگاہیں
جانب فلک
محبت کے پیراہن سجائے
منتظر ہیں
آسمان الفت
اپنی آغوش مادری میں لینے کو بیتاب ہے
تمہارے دیدار کی حسرت میں
دہکتی ہوئی
راہ تکتی آنکھیں
اس دل کش منظر میں کھونا چاہتی ہیں
جب تم ان سے محو کلام ہو
شب کے آخری پہر
کسی بھٹکے ہوئے پرندے کی
پر سوز سرگوشی
اور اس کی اڑان کا دکھ
چاند جانتا ہے