اجالا تاریکی میں منتقل ہوتا دیکھ کر

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

اجالا تاریکی میں منتقل ہوتا دیکھ کر

بنجر ذہن پر

خود ساختہ اگے

نمودی درخت کی اجڑی ٹہنیوں پر جنبش

نقارۂ ذات ہے

زرخیز سوال کا پانی چونچ میں بھرے

رنگین پرندہ پیاس کی وادی میں نمودار ہوا

وصال کیوں ہجر کی جانب گامزن ہے

شباب پر زردی کیسی

ناچتی خوشیاں

غم خوشبو سے لپٹی

احتمال آمیز ہیں

زندگی کا دیا

سیاہ سائے تلے ٹمٹما رہا ہے

دن بھر رینگتے ہوئے سورج نے

آوازہ لگایا

والعصر

اور مجھ سے

ان الانسان لفی خسر

کی تفسیر کلام کرنے لگی