ایک دائرے پہ کھڑے ہو کر

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

ایک دائرے پہ کھڑے ہو کر

وہ دھن سننا چاہ رہی ہوں

جس پہ کائنات محو رقص ہے

کوئی بھی دلیل نا کافی ہے

ابھرتے سورج کی کرنیں پڑھ کر

دن بھر کی داستان لکھی جا سکتی ہے

سات رنگوں کا مجموعہ اگر بولے تو

ایک اضافی رنگ بن سکتا ہے

مگر چاند کی چھاؤں میں بیٹھی

سیف الملوک سن کر

رات کو روح پہ جھیلنے والی کی

دلیل کا جواب

ابھی تک نہیں ملا

عشق کا رقص جاری ہے