دھوپ کی سرگوشی سے
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)دھوپ کی سرگوشی سے
زمین کی بھربھری مٹی مرتعش ہوئی
سفیدی سرخی میں ڈھلی
یا پھر زرخیزی بنجر ہوئی
حیرت تذبذب کا شکار ہے
تھکن زندگی سے بڑھ رہی ہے
اکھڑتی سانسوں کی
الوداعی مہک سے
کمرہ اداس ہے
سائیڈ ٹیبل پہ دھرے پین
اور ڈایری
منتظر ہیں
شاید
کہ آخری شام ان پہ درج کی جائے
پلکوں کے پیچھے
چھپی آنکھوں کے خواب نیلے ہو چکے ہیں
انتظار کی آخری کروٹ سے سنجیدہ سی ہنسی کی آمیزش
لہو رنگ
آنسوؤں میں گھل کر سو گئی ہے
دھوپ کا ذائقہ حفظ کرنا آسان نہیں ہوتا