کائناتی وسعت دیکھنے کے لیے
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)کائناتی وسعت دیکھنے کے لیے
میں نے گول دائرے میں قدم رکھا
اس خلا کو
ایک نئی روشنی بھر سکتی ہے
دشوار راہ میں ڈھونڈھنا آسان نہیں
وہ آخری مقام
جس پہ
کوئی مقالہ نہیں لکھا گیا
سوال چیخ رہا ہے
قلب الابیض سے نکلتی کوک
جب سماعتوں سے ٹکرا کر گونگی ہوئی
مجھے پھر سفید پھول رکھ کر
تحقیقی مضامین لکھنے پڑے
منزل قریب آنے لگی
قدم رکنے لگے
آنکھوں کا سارا نور
مجتمع کر کے دیکھا
روٹی ایک حصار میں جگمگا رہی تھی
جنت سے نکالے جانے سے لے کر آج تک
طلب کا آخری مقام بھوک ہے