دل اتنی شدت سے دھڑکا

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

دل اتنی شدت سے دھڑکا

کہ آنکھ کو درد کا قطرہ

سیاہ دکھانا پڑا

زندگی کی زنگ آلود

زنجیروں میں جکڑا وجود

آخری شب کا

ذائقہ چکھتے ہوئے

کسی تانترک کا منتظر ہے

عشق کیا ہے

سوال نے کیفیت کا نچوڑ مانگا

تمام تر بے سر و سامانی اکٹھی کر کے

نمکین پانی

رائگانی کی کہانی لکھ رہا تھا

وجود کو وجود میں فنا کرنے کا گر آ جائے

تو فلسفۂ عشق وجود میں آتا ہے

پیکر جمال شاہزادی کی آنکھیں

زرد رنگ کا حوالہ بنیں

تو درد کے اک نئے نام کی تخلیق ہوئی

مائیگرین کا علاج ابھی دریافت نہیں ہو سکا