کہاں تم جان پاؤ گے

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

کہاں تم جان پاؤ گے

کہ اس تپتے ہوئے صحرا میں ننگے پاؤں چلنے کی

اذیت کس کو کہتے ہیں

کئی دن پیاس کی چھاگل لیے

جب ریت ہونا ہو

تو ہونٹوں کی دہکتی آرزو کو ماپنے کا کوئی پیمانہ

جہاں میں بن نہیں پایا

تو کیا وہ درد سن پاؤ گے

جس کو

آج تک کوئی

یہاں چیخا نہیں کھل کر

کہاں وہ کرب جانو گے

جواں سالی میں اپنا

جب کوئی رخصت کیا جائے

تو دل پر کیا گزرتی ہے

ہماری زندگی قبروں پہ جا کر بیٹھ جاتی ہے

کہا یہ عام جاتا ہے

کہ وقت ہر زخم کا مرہم ہے

لیکن

کچھ کچوکے وقت سے زائل نہیں ہوتے

ہمیشہ تازہ رہتے ہیں

مکمل ہو نہیں پاتی ہماری پارہ پارہ ذات

ادھوری نظم ہوتی ہے