یہاں سب لوگ کہتے ہیں

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

یہاں سب لوگ کہتے ہیں

جدائی موت جیسی ہے

کہ زندہ لاش ہو کر بس

بچی سانسیں ہی چلتی ہیں

کہ جینا بھول جاتا ہے

یہ سانسیں شور کرتی ہیں

یہ آنکھیں خشک اور بنجر

کہ آنسو دل پہ گرتے ہیں

یہ سارے لوگ کہتے ہیں

سنو

اے چھوڑنے والے

یہی تم نے بھی جانا تھا

بچھڑ کے جی نہ پاؤں گی

تمہارا وہم تھا سارا

فقط یہ زعم تھا اور بس

میں بالکل پہلے جیسی ہوں

تر و تازہ ہیں دن میرے

مری راتیں سکوں آور

نہ تم یہ جان پائے ہو

محبت نام کس کا ہے

محبت میں جدائی کا

کوئی معنیٰ نہیں ہوتا

تمہارے ساتھ میں گزرے

وہ کچھ لمحے محبت کے

مرے جینے کو کافی ہیں

جدائی مار دی میں نے