سرما کی جھڑی
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)سرما کی جھڑی
کسی پرانے گیت کی دھن کی طرح
زمیں کا ماتھا چوم رہی تھی
ابروئے شمس کی جنبش سے
منظر لباس بدلنے لگے
جب اشجار نے رنگیں ردا اوڑھی
ہوائیں رقص کرتی ہوئیں
موسموں کے گلے ملیں
سرسبزگی کے سحر سے نکل کر
زمیں کی وسعتیں ناپتے تھل کی جانب محو سفر ہوں
مجھ پہ وا ہوا
صحرا بھی زرخیز ہوتے ہیں