قہقہہ کس نے ایجاد کیا
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)قہقہہ کس نے ایجاد کیا
تحقیق جاری ہے
مسکراتے موسم میں
بادلوں کے گولے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے
سورج کے سامنے آئیں
تو لگتا ہے
آسماں رقص میں ہے
سنگلاخ پہاڑوں کے دامنی چشموں کے
سر سن لئے ہوں گے
یا پھر کسی شاہزادی نے
مدت بعد کھلے میں انگڑائی لی ہوگی
آسمان پہ رنگ
یوں ہی نہیں بکھرے
خیال کہاں چلا گیا
قہقہے پہ تحقیق جاری تھی
یہ بے ساختہ خوشی کا ساز ہے
کسی بھٹکتے ہوئے مسافر کو من چاہی منزل مل جائے تو قہقہہ
یا پھر لا حاصل کو حاصل کرنے پہ قہقہہ
مظلوم کو انصاف ملا تو قہقہہ
خوشی کے سات رنگوں پہ حاوی ہے کیا آٹھواں قہقہہ
نہیں نہیں ہرگز نہیں
خوشی کے ساز و سر ہی الگ ہیں
قہقہہ تو درد کی ایجاد ہے
درد نے جب ساری سیڑھیاں عبور کر لیں
اذیت سے ہوتا ہوا وحشت میں داخل ہوا
یوں بنا قہقہہ