حبس زدہ اداسی روح اور بدن کو

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

حبس زدہ اداسی روح اور بدن کو

جکڑ چکی تھی

جون کے تپتے شب و روز میں

ایک شام ہوا کا جھونکا آیا

کھڑکی کھولنے کی عادت نہ ہونے کے باوجود

دل چاہا اس ہوا کو خود پہ گزارا جائے

اب وقت کروٹ لے رہا ہے

بنجر ہوتی زمین پر

اک سبز رنگ کا ملاپ ہے

سورج اپنی روشنی کی سفیدی کو اتار کر

سنہری پہناوے میں ابھر رہا ہے

غاروں سے نکلتے سیاہ رنگ کا وجود

موسم بہاراں کا راگ الاپتے

محو رقص ہے

بارہ مہینوں کے حاشیے میرے سامنے ہیں

دسویں مہینے کی ٹھنڈی ہوا

اور اس کی محبت کے اظہار کی برستی پھوار ایک جیسی ہے

اکتوبر عشق کی ہوا جیسا ہے