آنکھیں نیلی جھیل سی ہوں
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)آنکھیں نیلی جھیل سی ہوں
اور سرخ ہو جائیں
اکیس سال کی عمر میں
بال سفید ہو جائیں
چہرے کی سرخی زردی میں بدلے
جس آواز کے آنے سے
دن تھک جاتا ہے
کس کی ہے
اس آواز کی کھوج
پرائی سی لگتی ہے
موسم بدل رہا ہے
اور بہار کے ڈیرے
منظر منظر لگنے والے ہیں
فصلیں بھی تیار کھڑی ہیں
اور ہماری روح میں ہلچل
سکھ کے کھوج میں ہر سو ہر پل
دل کا حال خدا جانے ہے
میں آنکھوں کے زخم دکھانے
تیرے در پر آ پہنچی ہوں