ساون کی سنہری جھڑی کے
Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)ساون کی سنہری جھڑی کے
مترنم قطروں کا رقص کچھ تلاشتا ہے
ہواؤں کا رخ
تری جانب موڑنے کو
آسمان کی وسعتوں سے گفتگو جاری ہے
سفید کبوتر
پیغام رسانی کی پہلی اڑان بھرنے کے منتظر ہیں
اس مسکراہٹ کا صدقہ اتارنے کو
دھنک نا کافی ہے
جو مجھ تک تصویر سے نکل کر پہنچی
میں اک نیا رنگ تخلیق کروں گی
تری آواز کا ذائقہ
مری خزاں میں ڈوبی سماعتوں کی
اداس ٹہنیوں پہ رنگیں پتوں کی مدھر
دھن کا موجب ٹھہرا
ترے لہجے کی برستی پھوار
مرے سن رسیدہ وجود کی
بہاروں کی طویل عمری کا سبب ہے
میں تیرے ان کہے اشعار کی
پہلی سامع
اگر اپنی تمام نظمیں
تجھ پہ وار دوں
تو مان جاؤ گے
طلب کی مٹی کا رنگ
طبعی طور پر سبز ہوتا ہے