دن ادھورا تھا اور

Omainuz Zahra Sayyad (b. 2000)

دن ادھورا تھا اور

شام کی چائے میں چینی کی جگہ

اداسی گھول کر پی لی ہے

روح پہ رات اترنے لگی ہے

آنکھیں منتظر ہیں اس خواب کی

جس نے

مجھے ہجر کے موسموں میں

قدم رکھنے پہ مجبور کیا

کہاں جانتے ہو

سب کچھ ہوتے ہوئے بھی

خالی دامن رہ جانے کا دکھ

آنسو دل پہ جب رقص کریں

تو پھر صبر کی آیات

حفظ ہو جاتی ہیں

مختصر یہ کہ

ہمیں محبت کی اجازت نہیں ہے