Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملامگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملاNoon Meem Rashid (1910–1975)
  2. تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہادل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہاNoon Meem Rashid (1910–1975)
  3. جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجےیہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  4. حسرت انتظار یار نہ پوچھہائے وہ شدت انتظار نہ پوچھNoon Meem Rashid (1910–1975)
  5. آج پھر آ ہی گیاآج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیاNoon Meem Rashid (1910–1975)
  6. تیرے بستر پہ مری جان کبھیبے کراں رات کے سناٹے میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  7. جاگ اے شمع شبستان وصالمحفل خواب کے اس فرش طرب ناک سے جاگNoon Meem Rashid (1910–1975)
  8. چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابرآغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگNoon Meem Rashid (1910–1975)
  9. رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرناس لیے بن نہ سکی راہ تمنا کی دلیلNoon Meem Rashid (1910–1975)
  10. رہی ہے حضرت یزداں سے دوستی میریرہا ہے زہد سے یارانہ استوار مراNoon Meem Rashid (1910–1975)
  11. سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہمیں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  12. شب زفاف ابو لہب تھی مگر خدایا وہ کیسی شب تھیابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن گلے میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  13. شہر کے شہر کا افسانہ وہ خوش فہم مگر سادہ مسافرکہ جنہیں عشق کی للکار کے رہزن نے کہا: آؤ!Noon Meem Rashid (1910–1975)
  14. کیسے میں بھی بھول جاؤںزندگی سے اپنا ربط اولیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  15. گناہ کے تند و تیز شعلوں سے روح میری بھڑک رہی تھیہوس کی سنسان وادیوں میں مری جوانی بھٹک رہی تھیNoon Meem Rashid (1910–1975)
  16. لب بیاباں، بوسے بے جاںکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟Noon Meem Rashid (1910–1975)
  17. مجھے موت آئے گی، مر جاؤں گا میں،تجھے موت آئے گی، مر جائے گی تو،Noon Meem Rashid (1910–1975)
  18. نکل کر جوئے نغمہ خلد زار ماہ و انجم سےفضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہNoon Meem Rashid (1910–1975)
  19. ہم تصوف کے خرابوں کے مکیںوقت کے طول المناک کے پروردہ ہیں،Noon Meem Rashid (1910–1975)
  20. آج، اس ساعت دزدیدہ و نایاب میں بھی،جسم ہے خواب سے لذت کش خمیازہ تراNoon Meem Rashid (1910–1975)
  21. آج دروازے کھلے رہنے دویاد کی آگ دہک اٹھی ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  22. اس کا چہرہ، اس کے خد و خال یاد آتے نہیںاک شبستاں یاد ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  23. ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھیمیرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
  24. اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لےزندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  25. جسم اور روح میں آہنگ نہیںلذت اندوز دلآویزیٔ موہوم ہے توNoon Meem Rashid (1910–1975)
  26. ''زمانہ خدا ہے، اسے تم برا مت کہو''مگر تم نہیں دیکھتے زمانہ فقط ریسمان خیالNoon Meem Rashid (1910–1975)
  27. سمندر کی تہ میںسمندر کی سنگین تہ میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  28. کر چکا ہوں آج عزم آخریشام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  29. گوشۂ زنجیر میںاک نئی جنبش ہویدا ہو چلیNoon Meem Rashid (1910–1975)
  30. میر ہو مرزا ہو میرا جی ہونارسا ہاتھ کی نمناکی ہےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  31. اجل، ان سے مل،کہ یہ سادہ دلNoon Meem Rashid (1910–1975)
  32. اے جہاں زاد،نشاط اس شب بے راہ روی کیNoon Meem Rashid (1910–1975)
  33. اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خوابNoon Meem Rashid (1910–1975)
  34. بخارا سمرقند اک خال ہندو کے بدلے!بجا ہے بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟Noon Meem Rashid (1910–1975)
  35. تو جب سات سو آٹھویں رات آئیتو کہنے لگی شہرزاد:Noon Meem Rashid (1910–1975)
  36. جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتNoon Meem Rashid (1910–1975)
  37. جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعداک شہر مدفون کی ہر گلی میںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  38. جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
  39. چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سےکئی لذتوں کا ستم لیےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  40. خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ دیکھی ہیں میں نے مسز سالا مانکا کی آنکھیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  41. ''خدائے برتریہ دریوش بزرگ کی سرزمیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
  42. خیابان سعدی میںروسی کتابوں کی دکان پر ہم کھڑے تھےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  43. ذہن خالی ہےخلا نور سے یا نغمے سےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  44. زندگی سے ڈرتے ہو؟!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!Noon Meem Rashid (1910–1975)
  45. سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراںسبا ویراں، سبا آسیب کا مسکنNoon Meem Rashid (1910–1975)
  46. شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئےپا شکستہ سر بریدہ خوابNoon Meem Rashid (1910–1975)
  47. کریم سورججو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائیNoon Meem Rashid (1910–1975)
  48. کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دوکوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  49. مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامNoon Meem Rashid (1910–1975)
  50. مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤںبات کہنے کے بہانے ہیں بہتNoon Meem Rashid (1910–1975)